🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : النهي عن بيع الطعام قبل أن يقبض
باب: قبضے سے پہلے اناج بیچنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2228
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ صَاعُ الْبَائِعِ وَصَاعُ الْمُشْتَرِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے صاع نہ چلیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2941، ومصباح الزجاجة: 782) (حسن) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بیچنے والے اور خریدنے والے کے صاع (یعنی پیمانہ) چلنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدتے وقت اپنے صاع سے اس کو ماپا، اور خریدنے والا جب خریدے تو اس وقت ماپے، جب ماپ لے تو اب دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي: ضعيف
وأبو الزبير عنعن
وللحديث شاھد عند البيھقي (5/ 316) من حديث أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه،فيه ھشام بن حسان مدلس (د 443)
ولم أجد تصريح سماعه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 458

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← محمد بن مسلم القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3850
إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه
سنن ابن ماجه
2228
بيع الطعام حتى يجري فيه الصاعان صاع البائع وصاع المشتري
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2228 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2228
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب کوئی شخص غلہ وغیرہ خریدے تو اسے چاہیے کہ اسے وہاں سے اٹھا لے، پھر دوسری جگہ جا کر فروخت کرے۔

(2)
بعض لوگ سودے پر سودا کرتے چلے جاتے ہیں، اور نفع لے لیتے ہیں جب کہ سامان سٹور میں پڑا ہوتا ہے اسے دیکھتے بھی نہیں کہ یہ کتنی قیمت کا ہے، درست ہے یا خراب ہے اس کا جتنا وزن بتایا جا رہا ہے پورا ہے یا نہیں۔
اس کا نقصان آخر میں خریدنے والے کو ہوتا ہے جو اسے اپنے استعمال کے لیے خریدتے ہے، اور اس وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں۔

(3)
بغیر دیکھے خرید وفروخت کی صورت میں ایسے لوگ خریدتے ہیں جنہیں ضرورت نہیں ہوتی۔
اور وہ بغیر محنت کے نفع لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ چیز صارفین تک مہنگی ہو کر پہنچتی ہے۔
اور مال کے مالک (کسان)
کو بہت کم قیمت ملتی ہے۔

(4)
دو پیمانوں سے ماپنے کا مطلب ہے کہ پہلے ماپ کر خریدا جائے، پھر بیچتے وقت دوبارہ ماپ کر خریدار کے حوالے کیا جائے۔
تولنے والی چیز کو اسی طرح دوبارہ تولا جانا چاہیے، اور گنی جانے والی چیز بھی گن کر وصول کی جائے اور پھر بیچتے وقت گن کر گاہک کے حوالے کی جائے تاکہ کسی مقام پر کسی سے دھوکا نہ ہو۔

(5)
مال چیک کرکے خریدنے او رچیک کرا کے فروخت کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ مال کی اصل کیفیت خریدار کے سامنے آ جاتی ہے۔
اس کا معیار یا عیب وغیرہ سامنے آ جاتا ہے جس سے ہر شخص کو اس کی جائز قیمت ملتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2228]