سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : إذا تشاجروا في قدر الطريق
باب: راستے کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں لوگوں میں جھگڑا ہو تو فیصلہ کیسے ہو گا؟
حدیث نمبر: 2339
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6128، ومصباح الزجاجة: 820)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 303، 317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر قبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمد بن عمر الصائدي، أبو عبد الله محمد بن عمر الصائدي ← قبيصة بن عقبة السوائي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن عمر الصائدي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2339
| إذا اختلفتم في الطريق فاجعلوه سبعة أذرع |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2339 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2339
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہاتھ سے مراد نیچے سےکہنی تک کا فاصلہ ہے جو دوبالشت یعنی آٹھ گرہ یا ڈیڑھ فٹ کےبرابر ہے۔
سات ذراع کی مقدار ساڑھے تین گز یا ساڑھے دس فٹ کے برابر ہے۔
(2)
راستے سے مراد گلی کی چوڑائی بھی ہو سکتی ہے اور کھیتوں کے درمیان کھلا راستہ بھی۔
اس کی مقدار اتنی ہونی چاہیے کہ پیدل آدمی عورتیں اور گھوڑے گدھے یا خچر پر سوار آدمی سب آسانی سے گزر سکیں۔
(3)
آج کا دور کاروں بسوں وغیرہ کا دور ہے اس لیے ان کی مناسبت سے مناسب حد مقرر کی جا سکتی ہے۔
نئی آبادیوں کا نقشہ تیار کرتے وقت گلیوں اور سڑکوں کی چوڑائی اس سے کم نہ رکھی جائے۔
(4)
بنجر زمین کو کاشت کرتے وقت بھی جہاں راستہ رکھا جائے اس کی مقدار اسی طرح مقرر کی جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہاتھ سے مراد نیچے سےکہنی تک کا فاصلہ ہے جو دوبالشت یعنی آٹھ گرہ یا ڈیڑھ فٹ کےبرابر ہے۔
سات ذراع کی مقدار ساڑھے تین گز یا ساڑھے دس فٹ کے برابر ہے۔
(2)
راستے سے مراد گلی کی چوڑائی بھی ہو سکتی ہے اور کھیتوں کے درمیان کھلا راستہ بھی۔
اس کی مقدار اتنی ہونی چاہیے کہ پیدل آدمی عورتیں اور گھوڑے گدھے یا خچر پر سوار آدمی سب آسانی سے گزر سکیں۔
(3)
آج کا دور کاروں بسوں وغیرہ کا دور ہے اس لیے ان کی مناسبت سے مناسب حد مقرر کی جا سکتی ہے۔
نئی آبادیوں کا نقشہ تیار کرتے وقت گلیوں اور سڑکوں کی چوڑائی اس سے کم نہ رکھی جائے۔
(4)
بنجر زمین کو کاشت کرتے وقت بھی جہاں راستہ رکھا جائے اس کی مقدار اسی طرح مقرر کی جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2339]
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي