🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : الصلح
باب: صلح کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأحکام 17 (1352)، (تحفة الأشراف: 10775) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن عوف المزني، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عمرو المزني، أبو كثير
Newعبد الله بن عمرو المزني ← عمرو بن عوف المزني
مقبول
👤←👥كثير بن عبد الله المزني
Newكثير بن عبد الله المزني ← عبد الله بن عمرو المزني
متروك الحديث
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم
Newخالد بن مخلد القطواني ← كثير بن عبد الله المزني
مقبول
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← خالد بن مخلد القطواني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2353
الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2353 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2353
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو افراد یا گروہوں میں اختلاف ہو جائے تو اختلاف شدید نہ ہونے دیا جائے بلکہ جلد ازجلد صلح کرانے کی کوشش کی جائے۔

(2)
  صلح کا یہ مطلب ہے کہ جھگڑا ختم کرنے کےلیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جائے۔
یہ بہت ثواب کا کام ہے۔

(3)
  صلح میں ایسی شرط نہیں رکھی جا سکتی جو شریعت کے واضح حکم کے خلاف ہ۔
ایسی شرط رکھنا یا اس پر عمل کرنا حرام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2353]