🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : العمرى
باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2379
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عُمْرَى فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ کوئی چیز نہیں ہے، جس کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی تو وہ اسی کی ملک ہو جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15107)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الرقبي 4 (3555) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمریٰ والوں کے لئے، عمریٰ میراث ہو گی ایک روایت میں ہے کہ عمریٰ جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
صدوق له أوهام
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← محمد بن عمرو الليثي
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4202
العمرى جائزة
سنن ابن ماجه
2379
لا عمرى فمن أعمر شيئا فهو له
سنن النسائى الصغرى
3783
لا عمرى فمن أعمر شيئا فهو له
سنن النسائى الصغرى
3784
من أعمر شيئا فهو له
سنن النسائى الصغرى
3785
العمرى جائزة
سنن النسائى الصغرى
3786
العمرى جائزة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2379 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2379
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہل عرب بعض اوقات کسی پراحسان کرتےہوئے اسے کہہ دیتےتھے:
میں تمھیں اپنے اس گھر میں زندگی بھررہنے کی اجازت دیتاہوں۔
مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمھاری وفات کےبعد یہ گھر دوبارہ مجھے یا میرے وارثوں کو مل جائےگا۔
اسے عمریٰ کہتےتھے۔

(2)
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعمریٰ کوعام ہبہ کےحکم میں کردیا۔
اب ایک چیز جسے دے دی گئی وہ اسی کی ہوگئی۔
اس پریہ شرط لگانا درست نہیں کہ تمھارے مرنےکےبعد مجھے واپس مل جائے گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2379]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3786
اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو کے اختلاف کا ذکر۔
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے عمریٰ کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا: محمد بن سیرین نے شریح سے یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ عمریٰ نافذ ہو گا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن نضر بن انس نے بسند بشر بن نہیک بسند ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: عمریٰ نافذ ہو گا، قتادہ کہتے ہیں: میں نے کہا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3786]
اردو حاشہ:
یہ تمام اقوال حضرت قتادہ نے اس مسئلے کی تفہیم کے لیے بیان فرمائے ہیں۔ کسی خلیفہ کا صحیح حدیث کے مطابق فیصلہ نہ کرنا اس حدیث کو کمزور نہیں بناتا‘ البتہ ان اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ مختلف ہے۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے جیسا کہ تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3786]