🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : العارية
باب: عاریت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2399
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عاریت (منگنی لی ہوئی چیز، مانگی ہوئی چیز) ادا کی جائے، اور دودھ پینے کے لیے دئیے گئے جانور کو واپس کر دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 862، ومصباح الزجاجة: 841) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 1516)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن يزيد الأزدي، أبو عتبة
Newعبد الرحمن بن يزيد الأزدي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة
👤←👥محمد بن شعيب القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن شعيب القرشي ← عبد الرحمن بن يزيد الأزدي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← محمد بن شعيب القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← دحيم القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2399
العارية مؤداة والمنحة مردودة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2399 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2399
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عاریتاً سےمراد یہ ہےکہ کسی سےکوئی چیز اس غرض سےلی جائےکہ استعمال کےبعد بعینہ واپس کی دی جائے گی۔

(2)
منحۃ سے مرادوہ دودھ والا جانور ہےجوکسی کواس شرط پردیا جائےکہ جب وہ دودھ دینا بند کردے تواسے واپس کردیا جائے گا۔
اس دوران میں منحۃ لینے والا اس کا دودھ استعمال كرتا رہے کیونکہ یہ بھی ایک لحاظ سےعاریتاً ہی ہے۔

(3)
عاریتاً والے کا فرض ہےکہ اس چیز کو اس انداز سےاستعمال کرے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے تاکہ واپسی پرمالک اس سے اسی طرح فائدہ حاصل کرسکے  جس طرح پہلے فائدہ حاصل کرتا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2399]