🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : إنظار المعسر
باب: محتاج قرض دار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2419
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ لَهُ".
صحابی رسول ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے (عرش کے) سائے میں رکھے، تو وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا قرض معاف کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2419]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابویسر (کعب بن عمرو سلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہیے کہ تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الزہد 18 (3006)، (تحفة الأشراف: 11123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/427)، سنن الدارمی/البیوع 50 (2630) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن عمرو السلمي، أبو اليسرصحابي
👤←👥حنظلة بن قيس الأنصاري
Newحنظلة بن قيس الأنصاري ← كعب بن عمرو السلمي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن معاوية الأنصاري، أبو الحويرثة، أبو الحويرث
Newعبد الرحمن بن معاوية الأنصاري ← حنظلة بن قيس الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن إسحاق العامري
Newعبد الرحمن بن إسحاق العامري ← عبد الرحمن بن معاوية الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← عبد الرحمن بن إسحاق العامري
ثقة حجة حافظ
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7512
من أنظر معسرا أو وضع عنه أظله الله في ظله
سنن ابن ماجه
2419
ينظر معسرا أو ليضع له
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2419 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2419
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قیامت کےدن بعض لوگوں کوعرش کےسائے میں جگہ ملےگی۔
اللہ کےسائے سےاس کےعرش کا سایہ مراد ہے۔

(2)
عرش کے سائے میں جگہ ملنا بہت بڑے شرف کی بات ہے کیونکہ اس وقت اورکسی چیز کا سایہ نہیں ہوگا، جب کہ سورج کی دھوپ انتہائی تیز ہوگی جس کی وجہ سے لوگ اپنے اپنے گناہوں کےمطابق پسینے میں غرق ہوں گے۔

(3)
ایک حدیث میں بعض دوسرے اعمال بھی بیان ہوئے ہیں جن کا ثواب عرش کا سایہ ہے۔
ارشاد نبوی ہے:
سات آدمیوں کواللہ تعالی اپںے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کےسوا کوئی سایہ نہیں ہوگا:
انصاف کرنے والا حکمران، وہ جوان جورب کی عبادت میں بڑا ہوا، وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں اٹکا رہتاہے، وہ مرد جوصرف اللہ کےلیے محبت رکھتے ہیں، اسی حالت میں باہم ملتے اوراسی حالت میں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں،  وہ مرد جس سے کسی خوبصورت اورصاحب منصب عورت نے (گناہ کا)
مطالبہ کیا تواس نےکہہ دیا کہ اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ مرد جس نے چھپا کر صدقہ دیا حتی کہ اس کےبائیں ہاتھ کومعلوم نہ ہوا کہ دائیں ہاتھ نےکیا دیا، اوروہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تواس کی آنکھیں سےآنسو بہ پڑے۔ (صیح البخاري، الأذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ وفضل المساجد، حدیث: 660، وصحیح مسلم،   الزکاۃ،   باب فضل اخفاء الصدقة، حدیث: 1031)

(4)
  قرض معاف کردینا بہت ثواب کاکام ہے، اگر یہ ممکن نہ ہوتو مہلت دینا تو آسان ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2419]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7512
عبادہ رحمۃ اللہ علیہ بن ولید رحمۃ اللہ علیہ بن صامت بیان کرتے ہیں، میں اور میرے والد(ولید) طلب علم کے لیے انصار کے اس قبیلے کی ہلاکت سے پہلے اس میں گئے،سب سے پہلے جس شخص سے ہماری ملاقات ہوئی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو یسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے،ان کےساتھ ان کایک غلام بھی تھا جس کے پاس صحائف(دستاویزات) کا ایک مجموعہ تھا،حضرت ابو یسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بدن پر ایک دھاری دار چادر اور معافر کا بنا ہوا ایک کپرا تھا۔اور ان کے غلام کے جسم پر بھی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7512]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
ضمامة یا اضمامة:
گٹھا،
مجموعہ۔
(2)
معافري،
معافرنامی بستی میں بننے والے کپڑے۔
(3)
سفعة:
نشان،
تبدیلی،
(4)
جفر:
چھوٹا بچہ،
اپنے طور پر کھانے پینے والا،
پانچ سالہ،
نابالغ۔
(5)
اريكة:
ڈولی کی چارپائی،
مسہری۔
(6)
مناط:
رگ۔
فوائد ومسائل:
بچہ بھولا بھالا اور معصوم ہوتا ہے،
اس لیے اگر اس کو سبق نہ پڑھایا جائے،
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7512]

Sunan Ibn Majah Hadith 2419 in Urdu