🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : إنظار المعسر
باب: محتاج قرض دار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا عَمِلْتَ؟ فَإِمَّا ذَكَرَ أَوْ ذُكِّرَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَجَوَّزُ فِي السِّكَّةِ وَالنَّقْدِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ"، قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: أَنَا قَدْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 17 (2077)، الاستقراض 5 (2391)، الأنبیاء 54 (3451)، الرقاق 25 (6480)، صحیح مسلم/المساقاة 6 (1560)، (تحفة الأشراف: 3310)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز 117 (2082)، سنن الترمذی/البیوع 67 (1307)، مسند احمد (5/395، 399)، سنن الدارمی/البیوع 14 (2588) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کوئی کھوٹا سکہ یا نقدی دیتا تو بھی میں اسے قبول کر لیتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم
Newربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← ربعي بن حراش العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2077
كنت آمر فتياني أن ينظروا ويتجاوزوا عن الموسر قال قال فتجاوزوا عنه
صحيح مسلم
3993
كنت أداين الناس فآمر فتياني أن ينظروا المعسر ويتجوزوا عن الموسر قال قال الله تجوزوا عنه
سنن ابن ماجه
2420
كنت أتجوز في السكة والنقد وأنظر المعسر فغفر الله له
المعجم الصغير للطبراني
1063
كنت أبايع الناس فإذا بايعت معسرا تركت له وإذا بايعت موسرا أنظرته فيقول الله أنا أحق بالتجوز عن عبدي فيغفر له فقال الآخر صدقت هكذا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2420 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2420
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
لین دین میں نرمی کرنا اللہ تعالی کی بہت پسند ہے۔

(2)
وفات کےبعد تین مشہور سوالوں (تیرارب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیاہے؟)
کےعلاوہ بھی بعض معاملات کےبارے میں پوچھا جاتاہے۔

(3)
سکے میں چشم پوشی کا مطلب یہ ہے کہ سکے کی معمولی خرابی کونظر انداز کردیتا تھا جب کہ عام لوگ اس کس وجہ سے سکہ قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے جس طرح آج کل گھسا ہواسکہ یا پھٹا ہوا نوٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جاتاہے۔

(4)
اللہ کے ہاں حسن اخلاق کی بہت قدروقیمت ہے۔

(5)
مقروض کوقرض کی ادائیگی مزید مہلت دے دینا بہت بڑی نیکی ہے۔

(6)
  بعض اوقات ایک نیکی انسان کو نظر میں معمولی ہوتی ہے لیکن وہ بخشش کا ذریعہ بن جاتی ہے، اس لیے چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی طرف بھی پوری توجہ دینی چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2420]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3993
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا، یعنی اس کی روح قبض کی، اور اس سے پوچھا، کیا تو نے کوئی نیک کام، اچھا عمل کیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، فرشتوں نے کہا، یاد کر، اس نے کہا، میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے نوکروں کو یہ ہدایت دیتا تھا کہ تنگدست کو مہلت دینا اور مالدار سے وصولی میں آسانی اور سہولت کا رویہ اختیار کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3993]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
معسر تنگدست کو انظار ڈھیل اور مہلت دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم جب آسانی اور سہولت کے ساتھ اداکرسکو،
اس وقت اداکردینا،
یا اس سے آسان قسطوں کے ذریعہ قرض وصول کرنا،
اور موسر مالدار سے تجوز یا تجاوز،
درگذراور چشم پوشی سے کام لینا،
اس کا مقصد یہ ہے کہ اس سے قرض وصول کرنے میں درشت اور سخت رویہ اختیارنہ کرنا،
نقد ادائیگی کی سکت وطاقت کے باوجود یا وقت مقررہ کی آمد کے باوجود ایک آدھ دن کی ڈھیل دے دینا،
رقم میں کچھ کمی یا نقص ہو تو اس سے درگزر کرنا،
اور مکمل ادائیگی کا تقاضا چھوڑ دینا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3993]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2077
2077. حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پہلے زمانے میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کے وقت پوچھا: کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟اس نے کہا: میں اپنے ملازمین کو یہ حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست کو ادائیگی میں مہلت دیں اور مال دار سے بھی نرمی کریں تو انھوں نے بھی اس سے نرمی اختیار فرمائی۔ " ابو عبداللہ(امام بخاری) ؓ کہتے ہیں کہ ابو مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "میں مال داروں سے آسانی کرتا اور غریبوں کو مہلت دیتا تھا۔ " شعبہ نے ابومالک کی متابعت کی ہے۔ ابو عوانہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: " میں مالدار کو مہلت دیتا اور نادار سے درگزر کرتا تھا۔ " ایک دوسری روایت بایں الفاظ ہے: "میں مالدار کا عذر قبول کرتا اور غریب سے درگزر کرتا تھا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2077]
حدیث حاشیہ:
یعنی گو قرض دار مالدار ہو مگر اس پر سختی نہ کرے، اگر وہ مہلت چاہے تو مہلت دے۔
مالدار کی تعریف میں اختلاف ہے بعض نے کہا جس کے پاس اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچہ موجود ہو۔
ثوری اور ابن مبارک اور امام احمد اور اسحاق نے کہا جس کے پاس پچاش درہم ہوں۔
اور امام شافعی نے کہا کہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں کرسکتے۔
کبھی جس کے پاس ایک درہم ہو مالدار کہلا سکتاہے جب وہ اس کے خرچ سے فاضل ہو اور کبھی ہزار رکھ کر بھی آدمی مفلس ہوتا ہے جب کہ اس کا خرچہ زیادہ ہو اور عیال بہت ہوں اور وہ قرض دار رہتا ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2077]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2077
2077. حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پہلے زمانے میں فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کے وقت پوچھا: کیا تو نے کوئی نیک کام کیا ہے؟اس نے کہا: میں اپنے ملازمین کو یہ حکم دیتا تھا کہ وہ تنگ دست کو ادائیگی میں مہلت دیں اور مال دار سے بھی نرمی کریں تو انھوں نے بھی اس سے نرمی اختیار فرمائی۔ " ابو عبداللہ(امام بخاری) ؓ کہتے ہیں کہ ابو مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "میں مال داروں سے آسانی کرتا اور غریبوں کو مہلت دیتا تھا۔ " شعبہ نے ابومالک کی متابعت کی ہے۔ ابو عوانہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: " میں مالدار کو مہلت دیتا اور نادار سے درگزر کرتا تھا۔ " ایک دوسری روایت بایں الفاظ ہے: "میں مالدار کا عذر قبول کرتا اور غریب سے درگزر کرتا تھا۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2077]
حدیث حاشیہ:
(1)
قرض دار اگرچہ مال دار ہی کیوں نہ ہو اس سے بھی درگزر والا معاملہ کرنا چاہیے۔
اس پر سختی نہ کی جائے۔
اگر وہ مزید مہلت طلب کرے تو خوش دلی کے ساتھ اسے مہلت دی جائے۔
(2)
مال دار کون ہے؟اس کی تعریف میں اختلاف ہے،تاہم حالات وظروف کے پیش نظر بعض اوقات انسان ایک درہم کمانے سے غنی ہوجاتا ہے اور کبھی ہزار درہم رکھنے کے باوجود فقیر رہتا ہے کیونکہ اس کے ہاں اہل وعیال کی کثرت ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انتہائی مہربان ہے۔
وہ معمولی سی نیکی کے عوض بہت بڑے گناہ گار کو معاف کردیتا ہے کیونکہ انسان جب اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(4)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اس کے ظلم کا ساتھ دیتا ہے،اس میں اجرو ثواب کی امید نہیں رکھی جاسکتی لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف کی تردید فرمائی ہے اور ثابت کیا ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اجر ملے گا۔
بہر حال عرف عام میں جو بھی مال دار ہو اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اور اچھے برتاؤ سے پیش آنا چاہیے۔
(5)
حدیث کے آخر میں (قال فتجا وزواعنه)
کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے:
"انھوں نے بھی اس سے نرمی اختیار کی۔
"اس لفظ کی دو سورتیں ہیں:
اگر (فتجا وزواعنه)
ہو اور فعل ماضی ہوتو اس کے معنی وہی ہوں گے جو ہم نے کیے ہیں،یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فرشتوں نے اس سے نرمی اختیار کی۔
" اور(فتجا وزواعنه)
اگر فعل امر ہوتو پھر معنی ہوں گے:
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا:
"تم بھی اس کے ساتھ نرمی کرو۔
"صحیح مسلم وغیرہ سے دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم،المساقاۃ،حدیث: 3993(1560)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2077]