سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : إقامة الحدود
باب: حدود کے نفاذ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2538
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: أَظُنُّهُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2538]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین میں ایک (مجرم کو) حد لگانا زمین والوں کے لیے چالیس دن بارش برسنے سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 7 (4919، 4920 موقوفاً)، (تحفة الأشراف: 14888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/362، 402) (حسن)» (سند میں جریر بن یزید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4908،4909)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
إسناده ضعيف
نسائي (4908،4909)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥جرير بن يزيد البجلي جرير بن يزيد البجلي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي | ضعيف الحديث | |
👤←👥عيسى بن يزيد الأزرق، أبو معاذ عيسى بن يزيد الأزرق ← جرير بن يزيد البجلي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عيسى بن يزيد الأزرق | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥عمرو بن رافع البجلي، أبو حجر عمرو بن رافع البجلي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2538
| حد يعمل به في الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا أربعين صباحا |
المعجم الصغير للطبراني |
931
| إقامة حد بأرض خير لأهلها من مطر أربعين صباحا |
سنن النسائى الصغرى |
4908
| حد يعمل في الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا ثلاثين صباحا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2538 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2538
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
”حد“سے مراد خاص جرائم کی وہ سزائیں جواللہ کی طرف سے مقرر کردی گئی ہےمثلاً:
چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا یا قتل کی سزا قصاص ہے۔
ان میں کمی بیشی جائز نہیں۔
ان کے علاوہ دوسرے جرائم کی سزا تعزیر کہلاتی ہےاس میں قاضی کو رائے دخل ہے وہ جرم کی نوعیت کے مطابق مناسب سزادے سکتا ہے۔
(2)
حدود و تعزیر کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور اس جرم سے اجتناب کریں اس لیے حدود کے نفاذ سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے اور ملک میں انصاف اورامن ہرقسم کی برکات کا باعث ہے۔
(3)
برکات کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے جوعرب کے صحرائی علاقے میں بہت بڑی نعمت اور رحمت شمارہوتی ہے۔
(4)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف کہا ہے جبکہ شیخ البانی رحمة الله عليه نے دیگرشواہد کی بنا پر ان کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 231)
فوائد و مسائل:
(1)
”حد“سے مراد خاص جرائم کی وہ سزائیں جواللہ کی طرف سے مقرر کردی گئی ہےمثلاً:
چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا یا قتل کی سزا قصاص ہے۔
ان میں کمی بیشی جائز نہیں۔
ان کے علاوہ دوسرے جرائم کی سزا تعزیر کہلاتی ہےاس میں قاضی کو رائے دخل ہے وہ جرم کی نوعیت کے مطابق مناسب سزادے سکتا ہے۔
(2)
حدود و تعزیر کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور اس جرم سے اجتناب کریں اس لیے حدود کے نفاذ سے معاشرے میں امن قائم ہوتا ہے اور ملک میں انصاف اورامن ہرقسم کی برکات کا باعث ہے۔
(3)
برکات کو بارش سے تشبیہ دی گئی ہے جوعرب کے صحرائی علاقے میں بہت بڑی نعمت اور رحمت شمارہوتی ہے۔
(4)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف کہا ہے جبکہ شیخ البانی رحمة الله عليه نے دیگرشواہد کی بنا پر ان کو حسن کہا ہے۔ دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 231)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2538]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4908
حد نافذ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4908]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4908]
اردو حاشہ:
(1) کچھ سزائیں ”حد“ کہلاتی ہیں اور کچھ ”تعزیر“۔ حد تو وہ سزا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہو جبکہ تعزیر اس سزا کو کہتے ہیں جو قاضی اور جج یا کوئی بھی ذمہ دار شخص جرم کی نوعیت دیکھ کر مناسبت سے اس جرم کی روک تھام کے لیے اپنی صواب دید کے مطابق دے سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تعزیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ البتہ حد اور تعزیر دونوں کے نفاذ کا مقصد لوگوں کو جرائم سے روکنا ہوتا ہے۔ یہ سزائیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ مجرم کا حشر دیکھ کر دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور جرم سے اجتناب کریں۔
(2) عام طور پر بارش ہر جگہ اور ہر علاقے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صحرائی علاقوں میں اس کی ضرورت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ عرب جو بہت بڑے صحرائی علاقے پر مشتمل ہے وہاں اس کی ضرورت مسلمہ ہے اس لیے اس سے تشبیہ دی۔
(3) ”بہتر ہے“ کیونکہ حدود کا نفاذ معاشرے میں امن وامان اور سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے نیز لڑائی جھگڑے اور خون ریزی کو ختم کرتا ہے۔ بارش کا فائدہ وقتی ہے مگر حدود کا فائدہ دائمی اور مستقل ہے نیز بارش صرف دنیا میں مفید ہے جب کہ حدود کا نفاذ آخرت میں بھی مفید ہوگا۔ رزق کا کیا فائدہ اگر جان اور مال وعزت ہی محفوظ نہ ہو؟ بلکہ رزق کی کثرت بسا اوقات جان وعزت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے جب معاشرے میں امن و امان نہ ہو۔ حدود انسان کے جان و مال اور عزت کو محفوظ کرنے کے لیے نسخہ کیمیا ہیں۔ تجربہ شرط ہے۔
(4) ”تیس دن“ کثرت مراد ہے جیسا کہ آئندہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے نیز یہ ایک فرضی بات ہے ورنہ مسلسل تیس دن بارش برستی رہے تو نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ البتہ پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش بھی مفید رہتی ہے یا وقفے وقفے سے مراد ہوگی، یعنی ضرورت کے مطابق پڑتی رہے۔ بارش کا خصوصی ذکر اس لیے فرمایا کہ بارش کے ساتھ ہی زمینی زندگی کی بقا ہے۔
(1) کچھ سزائیں ”حد“ کہلاتی ہیں اور کچھ ”تعزیر“۔ حد تو وہ سزا ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہو جبکہ تعزیر اس سزا کو کہتے ہیں جو قاضی اور جج یا کوئی بھی ذمہ دار شخص جرم کی نوعیت دیکھ کر مناسبت سے اس جرم کی روک تھام کے لیے اپنی صواب دید کے مطابق دے سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تعزیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ البتہ حد اور تعزیر دونوں کے نفاذ کا مقصد لوگوں کو جرائم سے روکنا ہوتا ہے۔ یہ سزائیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ مجرم کا حشر دیکھ کر دوسرے لوگ عبرت حاصل کریں اور جرم سے اجتناب کریں۔
(2) عام طور پر بارش ہر جگہ اور ہر علاقے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صحرائی علاقوں میں اس کی ضرورت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ عرب جو بہت بڑے صحرائی علاقے پر مشتمل ہے وہاں اس کی ضرورت مسلمہ ہے اس لیے اس سے تشبیہ دی۔
(3) ”بہتر ہے“ کیونکہ حدود کا نفاذ معاشرے میں امن وامان اور سکون و اطمینان پیدا کرتا ہے نیز لڑائی جھگڑے اور خون ریزی کو ختم کرتا ہے۔ بارش کا فائدہ وقتی ہے مگر حدود کا فائدہ دائمی اور مستقل ہے نیز بارش صرف دنیا میں مفید ہے جب کہ حدود کا نفاذ آخرت میں بھی مفید ہوگا۔ رزق کا کیا فائدہ اگر جان اور مال وعزت ہی محفوظ نہ ہو؟ بلکہ رزق کی کثرت بسا اوقات جان وعزت کے لیے خطرہ بن جاتی ہے جب معاشرے میں امن و امان نہ ہو۔ حدود انسان کے جان و مال اور عزت کو محفوظ کرنے کے لیے نسخہ کیمیا ہیں۔ تجربہ شرط ہے۔
(4) ”تیس دن“ کثرت مراد ہے جیسا کہ آئندہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے نیز یہ ایک فرضی بات ہے ورنہ مسلسل تیس دن بارش برستی رہے تو نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ البتہ پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش بھی مفید رہتی ہے یا وقفے وقفے سے مراد ہوگی، یعنی ضرورت کے مطابق پڑتی رہے۔ بارش کا خصوصی ذکر اس لیے فرمایا کہ بارش کے ساتھ ہی زمینی زندگی کی بقا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4908]
Sunan Ibn Majah Hadith 2538 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي