🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : الرجم
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2553
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ: مَا أَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ وَقَدْ قَرَأْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم (کا حکم) نہیں پاتا، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہو جائیں، واضح رہے کہ رجم حق ہے، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو، یا حمل ٹھہر جائے، یا زنا کا اعتراف کر لے، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے: «الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة» جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو ... ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2553]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ لوگوں پر کچھ طویل عرصہ گزرنے پر کوئی شخص یہ بھی کہنے لگے گا: مجھے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں رجم کا ذکر نہیں ملتا۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کا ایک فریضہ ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے۔ سنو! رجم حق ہے جب کہ مرد شادی شدہ ہو اور گواہی ثابت ہو جائے، یا حمل یا اعتراف موجود ہو۔ میں نے یہ آیت پڑھی: «الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ» بڑی عمر کا مرد اور بڑی عمر کی عورت جب بدکاری کریں تو انہیں ضرور رجم کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو) رجم کی سزا دی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 30 (6829، 6830)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن ابی داود/الحدود 23 (4418)، سنن الترمذی/الحدود 7 (1431، 1432)، (تحفة الأشراف: 10508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (1)، مسند احمد (1/ 23، 40، 47، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت سے مراد شادی شدہ لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الصباح الجرجرائي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2553 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2553
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رجم کا مطلب یہ ہے کہ اگر زنا کا مجرم مرد ہو یا عورت شادی شدہ ہو تواسے پتھر مار مار کر ہلا ک کردیا جائے۔

(2)
زنا کے مجرم کےلیے رجم کا حکم سابقہ شریعتوں میں بھی موجود تھا۔
بائبل کے موجودہ نسخوں میں بھی زانی کے لیے سزائے موت کا حکم موجود ہے۔ (دیکھیے: کتاب احبار، باب: 20 فقرہ: 10)

(3)
قرآن مجید میں بعض آیات یا ان کے احکام منسوخ ہوئےہیں۔
زیر مطالعہ حدیث میں مذکور آیت کی تلاوت منسوخ ہے اور حکم باقی ہے۔

(4)
زنا كا جرم تین طرح ثابت ہوتا ہے:

          (1)
چار چشم دید گواہوں کی گواہی۔

         (2)
مجرم کے اقرار جرم سے۔

         (3)
غیر شادی شدہ عورت کو حمل ہوجانے سے،
              البتہ غیرشادی شدہ مجرم کو سنگسار نہیں کیا جائے گا بلکہ سوکوڑے کی سزا دی جائے گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2553]

Sunan Ibn Majah Hadith 2553 in Urdu