🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب : رجم اليهودي واليهودية
باب: یہودی مرد اور عورت کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2558
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمٍ مَجْلُودٍ، فَدَعَاهُمْ فَقَالَ:" هَكَذَا تَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمْ حَدَّ الزَّانِي"، قَالُوا: نَعَمْ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَهَكَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي؟" قَالَ: لَا، وَلَوْلَا أَنَّكَ نَشَدْتَنِي لَمْ أُخْبِرْكَ، نَجِدُ حَدَّ الزَّانِي فِي كِتَابِنَا الرَّجْمَ، وَلَكِنَّهُ كَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا الرَّجْمُ، فَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَكْنَاهُ، وَكُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقُلْنَا: تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَى شَيْءٍ نُقِيمُهُ عَلَى الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَى التَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ مَكَانَ الرَّجْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ" وَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا: کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا، اور اس سے پوچھا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی: کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو کبھی نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن ہمارے معزز لوگوں میں کثرت سے رجم کے واقعات پیش آئے، تو جب ہم کسی معزز آدمی کو زنا کے جرم میں پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر پکڑا جانے والا معمولی آدمی ہوتا تو ہم اس پر حد جاری کرتے، پھر ہم نے لوگوں سے کہا کہ آؤ ایسی حد پر اتفاق کریں کہ جو معزز اور معمولی دونوں قسم کے آدمیوں پر ہم یکساں طور پر قائم کر سکیں، چنانچہ ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا پر اتفاق کر لیا، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه» یعنی اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جسے ان لوگوں نے مردہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ یہودی رجم کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے پاس سے گزرے جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور اسے کوڑے مارے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا: کیا تمہیں اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا ملتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا: میں تجھے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم زانی کی یہی سزا (تورات میں) پاتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ اور اگر آپ نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو (صحیح بات) نہ بتاتا۔ ہماری کتاب میں زانی کی سزا رجم ہی ہے لیکن ہمارے اشراف میں رجم (والا جرم) بہت زیادہ ہونے لگا تو (ہم یوں کرنے لگے کہ) جب ہم کسی معزز کو (اس جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے) پکڑ لیتے تو اسے (سزا دیے بغیر) چھوڑ دیتے، اور جب کسی کمزور کو پکڑ لیتے تو اسے حد لگا دیتے۔ (اس لیے) ہم نے (آپس میں) کہا: آؤ ہم کسی ایسی سزا پر اتفاق کر لیں جو معزز اور کمزور (دونوں قسم کے مجرموں) کو دے سکیں، چنانچہ ہم نے رجم کی بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے پر اتفاق کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَكَ إِذْ أَمَاتُوهُ» اے اللہ! سب سے پہلے میں تیرے حکم کو زندہ کرتا ہوں جب کہ انہوں نے اس کو مردہ کر دیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس مجرم کو سنگسار کر دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 6 (1700)، سنن ابی داود/الحدود 26 (4447)، (تحفة الأشراف: 1771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (286، 290، 300) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4440
هكذا تجدون حد الزاني في كتابكم قالوا نعم فدعا رجلا من علمائهم فقال أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى أهكذا تجدون حد الزاني في كتابكم قال لا ولولا أنك نشدتني بهذا لم أخبرك نجده الرجم
سنن أبي داود
4448
اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه فأمر به فرجم فأنزل الله يأيها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر إلى قوله يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا
سنن أبي داود
4447
اللهم إني أول من أحيا ما أماتوا من كتابك
سنن ابن ماجه
2558
هكذا تجدون في كتابكم حد الزاني قالوا نعم فدعا رجلا من علمائهم فقال أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى أهكذا تجدون حد الزاني قال لا ولولا أنك نشدتني لم أخبرك نجد حد الزاني في كتابنا الرجم
سنن ابن ماجه
2327
أنشدك بالله الذي أنزل التوراة على موسى
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2558 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2558
اردو حاشہ:
➊ اللہ کے قوانین کو تبدیل کر کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کو اللہ کے قوانین کہنا یہودیوں کی صفت ہے۔ مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
➋ جو رسم و رواج شریعت کے خلاف ہوں انہیں شریعت کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
➌ بائبل کے موجودہ نسخوں میں بھی زنا کے مجرم کے لیے سزائے موت کا ذکر موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کتاب استثنا میں اس طرح درج ہے:
اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے تو دونوں مار ڈالے جائیں یعنی وہ مرد بھی جس نے عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی۔ یوں تو اسرائیل میں سے ایسی برائی کو دفع کرنا، اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہو گئی ہو، دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک تک نکال لانا اور اسے سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔ [استثناء، باب: 22، فقرہ: 22 تا 24]
➍ قانون کا نفاذ امیر غریب سب پر یکساں ہونا چاہیے۔
➎ صحیح مسئلہ چھپا لینا یہودیوں کی عادت ہے۔
➏ غیر مسلم سے بھی غیر اللہ کی قسم لینا جائز نہیں، بلکہ اس سے اللہ کی صفت کا ذکر کر کے قسم لی جائے جس کا وہ بھی قائل ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2558]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4447
دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4447]
فوائد ومسائل:
کسی مردہ سنت کو زندہ کر نا اوراس پرعمل کرنا کرانا بہٹ بڑی عزیمت کا کام ہے اور اس کی فضیلت میں وارد ہے کہ بعد میں اس پر عمل کرنے والے سب لوگوں کے ثواب کے برابر اس پہلے آدمی کو ثواب ملتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4447]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4448
دو یہودیوں کے رجم کا بیان۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4448]
فوائد ومسائل:
اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق عمل اور فیصلہ نہ کرنا اور صلاحیت ہوتے ہوئے معاشرے میں اس کی تنقید نہ کرنا کفر ہے، ظلم ہے اور فسق ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4448]

Sunan Ibn Majah Hadith 2558 in Urdu