🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : من نفى رجلا من قبيلة
باب: غیر خاندان کے آدمی کو خاندان سے نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ وَلَا يَرَوْنِي إِلَّا أَفْضَلَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتُمْ مِنَّا؟ فَقَالَ:" نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا"، قَالَ: فَكَانَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ يَقُولُ: لَا أُوتِي بِرَجُلٍ نَفَى رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفربہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 161، ومصباح الزجاجة: 925)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/274، 5/211، 212) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریش نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أشعث بن قيس الكندي، أبو محمدصحابي
👤←👥مسلم بن هيصم العبدي
Newمسلم بن هيصم العبدي ← أشعث بن قيس الكندي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عقيل بن طلحة السلمي
Newعقيل بن طلحة السلمي ← مسلم بن هيصم العبدي
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عقيل بن طلحة السلمي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عبد العزيز بن المغيرة المنقري، أبو عبد الرحمن
Newعبد العزيز بن المغيرة المنقري ← حماد بن سلمة البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥هارون بن حيان التميمي، أبو موسى
Newهارون بن حيان التميمي ← عبد العزيز بن المغيرة المنقري
ثقة إمام
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← هارون بن حيان التميمي
ثقة إمام حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة حافظ جليل
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← محمد بن يحيى الذهلي
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2612
نحن بنو النضر بن كنانة لا نقفو أمنا ولا ننتفي من أبينا
المعجم الصغير للطبراني
851
لا ننبوا أمنا ، ولا ننتفي من أبينا ، نحن من ولد النضر بن كنانة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2612 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2612
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ قریش سے ہیں۔
قریش فہر بن مالک کا لقب ہے۔
فہر کی اولاد ہی قریش کہلاتی ہے۔
مالک کےوالد (فہرکے داد)
کا نام نضربن کنانہ ہے۔ (دیکھیے: الرحیق المختوم ص: 75)

(2)
جب کسی کویہ کہا جائے یہ اس شخص سےنہیں جس کا یہ بیٹا سمجھا جاتا ہےتو اس کا مطلب اس کی ماں پر زنا کی تہمت ہے لہٰذا یا تو وہ شخص اپنا الزام ثابت کرے ورنہ اسی (80)
کوڑے سزا ملے گی۔

(3)
زنا کا الزام صریح الفاظ میں لگایا جائے یا اشارتاً دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2612]