🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : من قتل عمدا فرضوا بالدية
باب: قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عَمْدًا، دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَذَلِكَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت (خوں بہا) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر قتل کیا، اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو (قصاص کے طور پر) قتل کر دیں، چاہیں تو دیت لے لیں۔ اور دیت کی مقدار تین سالہ تیس اونٹنیاں، اور چار سالہ تیس اونٹنیاں اور چالیس حاملہ اونٹنیاں (کل تعداد سو) ہے۔ یہ قتلِ عمد کی دیت ہے۔ اگر (اس سے کم) کسی مقدار پر صلح ہو جائے تو انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ اور یہ سخت (مغلظہ) دیت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1387)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 182، 183، 184، 185، 186) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «حقہ» یعنی وہ اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہو۔ «جذعہ» : یعنی وہ اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم
Newسليمان بن موسى القرشي ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن راشد الخزاعي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newمحمد بن راشد الخزاعي ← سليمان بن موسى القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن يزيد السلمي، أبو محمود، أبو هاشم
Newخالد بن يزيد السلمي ← محمد بن راشد الخزاعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← خالد بن يزيد السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1387
من قتل مؤمنا متعمدا دفع إلى أولياء المقتول فإن شاءوا قتلوا وإن شاءوا أخذوا الدية وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة وما صالحوا عليه فهو لهم وذلك لتشديد العقل
سنن أبي داود
4506
لا يقتل مؤمن بكافر من قتل مؤمنا متعمدا دفع إلى أولياء المقتول فإن شاءوا قتلوه وإن شاءوا أخذوا الدية
سنن ابن ماجه
2626
من قتل عمدا دفع إلى أولياء القتيل فإن شاءوا قتلوا وإن شاءوا أخذوا الدية وذلك ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون خلفة وذلك عقل العمد ما صولحوا عليه فهو لهم وذلك تشديد العقل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2626 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2626
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قتل عمد کی صورت میں قصاص اور دیت دونوں جائز ہیں۔

(2)
دیت کی مقدار میں مقتول کے وارثوں کی رضامندی سے کمی ہوسکتی ہے، اضافہ نہیں ہوسکتا۔

(3)
قتل کی تین سورتیں ہیں۔

قتل عمد:
اس سے مراد وہ قتل ہے جس میں حملہ آور کا مقصد قتل کرنا ہوتا ہے، چنانچہ وہ تلوار یا کسی ایسے ہتھیار سے حملہ کرتا ہے جسے سے مضروب عام طور پر بچ نہیں سکتا۔
اس قتل کی صورت میں دیت کی وہ مقدار مقرر ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔

 قتل شبہ عمد:
اس سے مراد یہ ہے کہ حملہ آور نے ایسی چیز سے حملہ کیا جس سے مضروب عام طور پر مرتا نہیں، مثلاً لاٹھی کی ضرب، حملہ آور کا مقصد چوٹ لگانا یا زخمی کرنا تھا لیکن مصروب چوٹ یا زخموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے فوت ہوگیا۔
اس کی دیت بھی قتل عمد کےبرابر ہے۔

 قتل خطا:
اس سے مراد یہ ہے کہ قاتل کا ارادہ اس کو قتل کرنے یا نقصان پہنچانے کا نہ تھا۔
اتفاقاً اس سے بلا ارادہ قتل ہوگیا، مثلا:
کسی ہرن وغیرہ پر فائر کیا یا تیر چلایا مگر نشانہ چوک گیا، یا اچانک  انسان سامنے آ گیا اور فائر یا تیر اسے جا لگا اور وہ مرگیا۔
اس کی دیت بھی سواونٹ ہی ہے لیکن ان کی عمر کم مقرر کی گئی ہے۔
اور حاملہ ہونے کی شرط نہیں ہے۔
دیکھئے، حدیث: 2630)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2626]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4506
مقتول کا وارث دیت لینے پر راضی ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4506]
فوائد ومسائل:
مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا، یہ مسئلہ آگے حدیث4530 میں آرہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4506]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1387
دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ۱؎ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کر لیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1387]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حاملہ اونٹنی اس کی جمع خلفات وخلائف آتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1387]

Sunan Ibn Majah Hadith 2626 in Urdu