🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : العفو في القصاص
باب: قصاص معاف کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2692
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے (یعنی سفارش کرتے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2692]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی کوئی ایسا مقدمہ پیش کیا گیا جس میں قصاص ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4497)، سنن النسائی/القسامة 23 (4787، 4788)، (تحفة الأ شراف: 1095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/213، 252) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ
Newعطاء بن أبي ميمونة البصري ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن بكر المزني
Newعبد الله بن بكر المزني ← عطاء بن أبي ميمونة البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥حبان بن هلال الباهلي، أبو حبيب
Newحبان بن هلال الباهلي ← عبد الله بن بكر المزني
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← حبان بن هلال الباهلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4788
أتي النبي في شيء فيه قصاص إلا أمر فيه بالعفو
سنن أبي داود
4497
رفع إليه شيء فيه قصاص إلا أمر فيه بالعفو
سنن ابن ماجه
2692
رفع إلى رسول الله شيء فيه القصاص إلا أمر فيه بالعفو
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2692 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2692
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قصاص لینا جائز ہے لیکن معاف کردینا افضل ہے۔

(2)
حاکم فریقین کو معافی یا صلح کا مشورہ دے سکتا ہے لیکن متعلقہ فریق کے لیے ضروری نہیں کہ اس مشورے کو تسلیم کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2692]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4788
قصاص معاف کر دینے کے حکم کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی کوئی ایسا معاملہ آیا جس میں قصاص ہو تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4788]
اردو حاشہ:
معلوم ہوا معاف کرنا افضل ہے بشرطیکہ فریق ثانی عاجزی کے ساتھ معافی کا طلب گار ہو۔ اگر وہ فخر و غرور میں ہو یا زبردستی کی معافی چاہتا ہو تو قصاص اور انتقام افضل ہے۔ پھر معافی کے بعد دیت ضرور ہونی چاہیے تاکہ خون کی اہمیت رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4788]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4497
امام (حاکم) خون معاف کر دینے کا حکم دے تو کیسا ہے؟
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسا مقدمہ لایا جاتا جس میں قصاص لازم ہوتا تو میں نے آپ کو یہی دیکھا کہ (پہلے) آپ اس میں معاف کر دینے کا حکم دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4497]
فوائد ومسائل:
قاضی اورحاکم صاحب کا معاملہ کو معاف کرنےکی ترغیب دے سکتے ہیں ازخود معاف کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
اگر معاف کریں تو بہت بڑا ظلم ہے، جیسے کہ ہماری حکومتوں کا معمول ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4497]

Sunan Ibn Majah Hadith 2692 in Urdu