🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : الحامل يجب عليها القود
باب: حاملہ عورت پر قصاص واجب ہو تو اس کا قصاص کب ہو گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَشَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَرْأَةُ إِذَا قَتَلَتْ عَمْدًا لَا تُقْتَلُ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا إِنْ كَانَتْ حَامِلًا، وَحَتَّى تُكَفِّلَ وَلَدَهَا، وَإِنْ زَنَتْ لَمْ تُرْجَمْ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا وَحَتَّى تُكَفِّلَ وَلَدَهَا".
معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی (بچہ کی ولادت) سے فارغ نہ ہو جائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 4824، 5048، 5103، 11341، ومصباح الزجاجة: 953) (ضعیف) (عبد الرحمن بن انعم افریقی، اور عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2225)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی بچے کے پلنے کی صورت پیدا نہ ہو جائے مثلاً اور کوئی اس کا رشتہ دار بچے کی پرورش اپنے ذمہ لے لے، یا کوئی اور شخص یا بچہ اس لائق ہو جائے کہ آپ کھانے پینے لگے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کا کچھ قصور نہیں ہے، پھر اگر حاملہ عورت کو ماریں یا سنگسار کریں تو بچے کا مفت خون ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن أنعم و ابن لهيعة:ضعيفان
ابن لهيعة: ضعيف إذا حدث بعد اختلاطه و حسن الحديث إذا حدث قبل اختلاطه بشرط تصريح السماع لأنه كان مدلسًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 475

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شداد بن أوس الأنصاري، أبو عبد الرحمن، أبو يعلىصحابي
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليد
Newعبادة بن الصامت الأنصاري ← شداد بن أوس الأنصاري
صحابي
👤←👥أبو عبيدة بن الجراح، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن الجراح ← عبادة بن الصامت الأنصاري
صحابي
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمن
Newمعاذ بن جبل الأنصاري ← أبو عبيدة بن الجراح
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن غنم الأشعري
Newعبد الرحمن بن غنم الأشعري ← معاذ بن جبل الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥عبادة بن نسي الكندي، أبو عمر
Newعبادة بن نسي الكندي ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، أبو خالد، أبو أيوب
Newعبد الرحمن بن زياد الإفريقي ← عبادة بن نسي الكندي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن لهيعة الحضرمي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن لهيعة الحضرمي ← عبد الرحمن بن زياد الإفريقي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن صالح الجهني، أبو صالح
Newعبد الله بن صالح الجهني ← عبد الله بن لهيعة الحضرمي
مقبول
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الله بن صالح الجهني
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2694
المرأة إذا قتلت عمدا لا تقتل حتى تضع ما في بطنها إن كانت حاملا وحتى تكفل ولدها إن زنت لم ترجم حتى تضع ما في بطنها وحتى تكفل ولدها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2694 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2694
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
مذکورہ روایت اکثر محققین کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم اس کی بابت صحیح مسلم کی روایت میں مروی ہے کہ حضرت غامدیہ رضی اللہ عنہا سے جب زنا کا جرم سرزد ہوگیا اورانہوں نے حاضر ہو کر اقرار کر لیا اور کہا کہ میں امید سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولادت تک حد کو مؤخر فرمایا۔
ولادت کے بعد جب ایک انصاری صحابی نے بچے کی پرورش کی ذمے داری قبول کی تب غامدیہ رضی اللہ عنہا کو رجم کیا گیا۔ (صحیح مسلم، الحدود، باب من اعتراف علی نفسه بالزنیٰ، حدیث: 1695)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2694]