🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ما جاء في مقدار الماء للوضوء والغسل من الجنابة
باب: وضو اور غسل جنابت کے پانی کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، وَعَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ مُدٌّ، وَمِنَ الْغُسْلِ صَاعٌ"، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا يُجْزِئُنَا، فَقَالَ:" قَدْ كَانَ يُجْزِئُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، وَأَكْثَرُ شَعَرًا"، يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کافی ہو جاتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10015، ومصباح الزجاجة: 111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/270) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حبان بن علی اور یزید بن أبی زیاد دونوں ضعیف ہیں، اس لئے یہ سند ضعیف ہے، لیکن مد و صاع سے متعلق ٹکڑا انس رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے ثابت ہے، اور تابعی کی اس مسئلے میں صحابی سے گفتگو جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے، اس لئے ان شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1991 - 2447)
وضاحت: ۱؎: عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے گویا یہ بتلایا کہ ایک مد اور ایک صاع پانی کا کافی نہ ہونا دو ہی وجہ سے ہو سکتا ہے، ایک تو احتیاط اور تقوی، دوسرے بالوں کی کثرت، تو اللہ تعالیٰ کے رسول تم سے زیادہ متقی اور محتاط تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بھی تم سے زیادہ تھے، جب آپ کو اتنا پانی کافی تھا تو تم کو کافی کیوں نہیں، سوائے اس کے کہ تم شکی مزاج ہو یا وسوسہ کا شکار، کوئی اور وجہ تو ہے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقيل بن أبي طالب الهاشمي، أبو يزيد، أبو عيسىصحابي
👤←👥محمد بن عقيل الهاشمي
Newمحمد بن عقيل الهاشمي ← عقيل بن أبي طالب الهاشمي
مقبول
👤←👥عبد الله بن عقيل الهاشمي، أبو محمد
Newعبد الله بن عقيل الهاشمي ← محمد بن عقيل الهاشمي
مقبول
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي زياد الهاشمي ← عبد الله بن عقيل الهاشمي
ضعيف الحديث
👤←👥حبان بن علي العنزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newحبان بن علي العنزي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي
ضعيف الحديث
👤←👥بكر بن يحيى العبدي، أبو علي
Newبكر بن يحيى العبدي ← حبان بن علي العنزي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عباد بن الوليد المؤدب، أبو بدر
Newعباد بن الوليد المؤدب ← بكر بن يحيى العبدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن المؤمل القيسي، أبو القاسم
Newمحمد بن المؤمل القيسي ← عباد بن الوليد المؤدب
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
270
يجزئ من الوضوء مد من الغسل صاع أكثر شعرا يعني النبي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 270 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث270
اردو حاشہ:
:
حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ پانی استعمال کرنے کا مقصد اگر طہارت اور صفائی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفائی پسند تھے۔
اگر احتیاط مطلوب ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ متقی تھے۔
اگر یہ خیال ہے کہ بال زیادہ ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بھی تجھ سے کم نہ تھےلہذا سائل کا زیادہ پانی استعمال کرنا محض شک اور وسوسہ کی وجہ سے ہوسکتا ہے یا اسراف کی وجہ سےاور اس سے بچنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 270]