🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : الوصية بالثلث
باب: تہائی مال تک وصیت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2709
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً لَكُمْ فِي أَعْمَالِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 14180، ومصباح الزجاجة: 961) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں طلحہ بن عمرو ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل طلحة بن عمرو: متروك
وتابعه عقبة بن عبد اللّٰه الأصم عن عطاء عند أبي نعيم في الحلية (322/3) وعقبة ضعيف (تقريب: 4642)
وللحديث طرق كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥طلحة بن عمرو الحضرمي
Newطلحة بن عمرو الحضرمي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
متروك الحديث
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← طلحة بن عمرو الحضرمي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2709
الله تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث أموالكم زيادة لكم في أعمالكم
بلوغ المرام
822
إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في حسناتكم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2709 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2709
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے لیکن بعض محققین نے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 45؍475، 476، والإرواء، رقم: 1641)
بنابریں اسلامی شریعت کے احکام دنیا اور آخرت میں فائدے کا باعث ہیں۔

(2)
اچھے کام کی وصیت کرنے سے مرنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب اس کی وفات کے بعد اس کی وصیت پر عمل کیا جاتا ہے تو مرنے والے کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔

(3)
  اگر پسماندگان اچھے کام کی وصیت پرعمل نہ کریں تب بھی فوت ہونے والے کو اچھی وصیت کا ثواب ضرور ملے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2709]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 822
وصیتوں کا بیان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں۔ ٍ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم» «بلوغ المرام/حدیث: 822»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:4 /150، وحديث أبي الدرداء أخرجه أحمد:6 /441، والبزار، وحديث أبي هريرة أخرجه ابن ماجه، الوصايا، حديث:2709. وسنده ضعيف.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جیسا کہ صاحب کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ان تمام میں ضعف ہے لیکن بعض بعض کے لیے باعث تقویت ہیں۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۴۵ /۴۷۵‘ ۴۷۶‘ والإرواء‘ رقم:۱۶۴۱)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 822]