سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : فرائض الجد
باب: وراثت میں دادا کے حصہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2723
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَدٍّ كَانَ فِينَا بِالسُّدُسِ.
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 6 (2897)، (تحفة الأشراف: 11367)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/27) (صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 2576)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2897)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2897)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معقل بن يسار المزني، أبو علي، أبو يسار، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← معقل بن يسار المزني | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥محمد بن عيسى النقاش، أبو جعفر محمد بن عيسى النقاش ← هشيم بن بشير السلمي | مقبول | |
👤←👥محمد بن إدريس الحنظلي، أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي ← محمد بن عيسى النقاش | أحد الحفاظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2897
| أيكم يعلم ما ورث رسول الله الجد فقال معقل بن يسار أنا ورثه رسول الله السدس قال مع من قال لا أدري قال لا دريت فما تغني إذا |
سنن ابن ماجه |
2722
| أتي بفريضة فيها جد فأعطاه ثلثا أو سدسا |
سنن ابن ماجه |
2723
| قضى رسول الله في جد كان فينا بالسدس |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2723 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2723
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:
(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور پہلی روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابی داؤد کی روایت (2894، 2895)
کفایت کرتی ہے جبکہ دیگر محققین نے دونوں روایتوں کو صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی بات ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 33/ 423، 424، وصحیح سنن أبي داود للألبانی، رقم: 2527)
(2)
میت کے والد كی عدم موجودگی میں والد کا چھٹا حصہ میت کے داد کو ملتا ہے اور لیکن اگر والد موجود ہو تو یہ چھٹا حصہ والد کو ملے گا اوردادے کو کچھ نہیں ملے گا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (المغنی لابن قدامہ: 9؍65۔ 81)
فوائدو مسائل:
(1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور پہلی روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابی داؤد کی روایت (2894، 2895)
کفایت کرتی ہے جبکہ دیگر محققین نے دونوں روایتوں کو صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی بات ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 33/ 423، 424، وصحیح سنن أبي داود للألبانی، رقم: 2527)
(2)
میت کے والد كی عدم موجودگی میں والد کا چھٹا حصہ میت کے داد کو ملتا ہے اور لیکن اگر والد موجود ہو تو یہ چھٹا حصہ والد کو ملے گا اوردادے کو کچھ نہیں ملے گا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (المغنی لابن قدامہ: 9؍65۔ 81)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2723]
الحسن البصري ← معقل بن يسار المزني