سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : ميراث الجدة
باب: میراث میں دادی اور نانی کے حصے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، ح وَحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ. (حديث موقوف) (حديث موقوف) ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى مِنْ قِبَلِ الْأَبِ إِلَى عُمَرَ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ:" مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا وَلَكِنْ هُوَ ذَاكِ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا".
قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نانی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے اس سے کہا: کتاب اللہ (قرآن) میں تمہارے حصے کا کوئی ذکر نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی مجھے تمہارا کوئی حصہ معلوم نہیں، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کر لوں، آپ نے لوگوں سے پوچھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور وہی بات بتائی جو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بتائی تھی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو نافذ کر دیا۔ پھر دوسری عورت جو دادی تھی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا حصہ مانگنے آئی، تو آپ نے کہا: کتاب اللہ (قرآن) میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ پیشتر ہو چکا ہے وہ تمہارے لیے نہیں، بلکہ نانی کے لیے ہوا، اور میں از خود فرائض میں کچھ بڑھا بھی نہیں سکتا، وہی چھٹا حصہ ہے اگر دادی اور نانی دونوں ہوں تو دونوں اس چھٹے حصے کو آدھا آدھا تقسیم کر لیں، اور دونوں میں سے ایک ہو تو وہ چھٹا حصہ پورا لے لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2724]
حضرت قبیصہ بن ذؤیب بن حلحلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک نانی وراثت (میں سے حصہ دلوائے جانے) کا مطالبہ لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: ”اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں تو تیرا کوئی حصہ مذکور نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تیرا کوئی حصہ میرے علم میں نہیں، اس لیے (فی الحال) واپس چلی جا حتیٰ کہ میں لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے دریافت کر لوں۔“ (اس کے بعد) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے دریافت کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری موجودگی میں نانی کو چھٹا حصہ دیا تھا۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی (گواہ) ہے؟“ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر وہی بات کہی جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ اس خاتون کے حق میں صادر فرما دیا۔ اس کے بعد ایک دادی، باپ سے تعلق رکھنے والی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث (کے حصے) کا مطالبہ لے کر آئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب میں تیرا کوئی حصہ مذکور نہیں، اور جو فیصلہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارک میں کیا گیا تھا وہ تیرے لیے نہیں تھا۔ اور میں مقرر حصوں میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، البتہ وہی چھٹا حصہ ہے۔ اگر (دادی اور نانی) دونوں اس میں شریک ہو جاؤ تو وہ تمہارے درمیان (نصف نصف) ہو گا۔ ورنہ تم دونوں میں سے جو ہو گی، وہ (حصہ) اس کا ہو گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 5 (2894)، سنن الترمذی/الفرائض 10 (2100، 2101)، (تحفة الأشراف: 11232، 11522)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض 8 (4) مسند احمد (4/ 225) (ضعیف)» (قبیصہ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مابین سند میں انقطاع ہے، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1426)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2100
| أعطاها السدس قال ومن سمع ذلك معك قال محمد بن مسلمة فأعطاها السدس |
جامع الترمذي |
2101
| أعطاها السدس |
سنن ابن ماجه |
2724
| أعطاها السدس فقال أبو بكر هل معك غيرك فقام محمد بن مسلمة الأنصاري فقال مثل ما قال المغيرة بن شعبة فأنفذه لها أبو بكر |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2724 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2724
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل:
(1)
جدہ کا لفظ نانی اور دادی دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
اس واقعے میں دوسری خاتون کا ذکرباپ کی طرف سے جدہ کے لفظ سے کیا گیا ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی خاتون نانی تھیں، دوسری دادی۔
2۔
نانی ہو دادی اس کاحصہ کل ترکے کا چھٹاحصہ ہے بشرطیکہ میت کی ماں موجود ہوں تو یہی چھٹا حصہ ان دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔
فوائدو مسائل:
(1)
جدہ کا لفظ نانی اور دادی دونوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
اس واقعے میں دوسری خاتون کا ذکرباپ کی طرف سے جدہ کے لفظ سے کیا گیا ہے۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی خاتون نانی تھیں، دوسری دادی۔
2۔
نانی ہو دادی اس کاحصہ کل ترکے کا چھٹاحصہ ہے بشرطیکہ میت کی ماں موجود ہوں تو یہی چھٹا حصہ ان دونوں میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2724]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2100
دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب (قرآن) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2100]
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا: میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب (قرآن) میں میرے لیے متعین حصہ ہے۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں اللہ کی کتاب (قرآن) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2100]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں قبیصہ اور مغیرہ و ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما وغیرہ کے درمیان انقطاع ہے،
اور زہری کے تلامذہ کے درمیان اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے میں اضطراب ہے،
دیکھیے:
ضعیف أبي داود رقم: 497،
والإرواء: 1680)
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں قبیصہ اور مغیرہ و ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما وغیرہ کے درمیان انقطاع ہے،
اور زہری کے تلامذہ کے درمیان اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے میں اضطراب ہے،
دیکھیے:
ضعیف أبي داود رقم: 497،
والإرواء: 1680)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]
Sunan Ibn Majah Hadith 2724 in Urdu
محمد بن مسلمة الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي