پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : ميراث القاتل
باب: قاتل کی میراث کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل وارث نہ ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل وارث نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفرائض 17 (2109)، (تحفة الأ شراف: 12286) وقد مضی برقم: (2645) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥إسحاق بن عبد الله القرشي، أبو سليمان إسحاق بن عبد الله القرشي ← محمد بن شهاب الزهري | متروك الحديث | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← إسحاق بن عبد الله القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2109
| القاتل لا يرث |
سنن ابن ماجه |
2645
| القاتل لا يرث |
سنن ابن ماجه |
2735
| القاتل لا يرث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2735 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2735
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قتل وراثت سے محرومی کا باعث ہے، یعنی اگر قاتل مقتول سے ایسا رشتہ رکھتا ہو جس کی بنا پروہ وراثت میں حصے کا مستحق ہے تو قتل کی وجہ سے وہ اپنے اس حق سے محروم ہو جائے گا۔
(2)
یہ حکم ہر قاتل کے لیے ہے، خواہ اصحاب الفروض میں سے ہو یا عصبہ میں سے ہو، مثلاً:
اگر ایک شخص کے دوبیٹے ہوں، ان میں سے ایک اپنے باپ کا قتل کردے تو مقتول کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کا حصہ نکال کرباقی مال مقتول کےاس بیٹے کو ملے گا جو قتل کے جرم میں شریک نہیں۔
دوسرا بیٹا جو قاتل ہے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(3)
قتل کا محرک بعض دفعہ یہ جذبہ بھی ہوتا ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت جلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
حدیث میں مذکورہ قانون کی وجہ سے یہ محرک ختم ہوجاتا ہے۔
اس طرح یہ قانون انسانوں کی جانوں کا محافظ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
قتل وراثت سے محرومی کا باعث ہے، یعنی اگر قاتل مقتول سے ایسا رشتہ رکھتا ہو جس کی بنا پروہ وراثت میں حصے کا مستحق ہے تو قتل کی وجہ سے وہ اپنے اس حق سے محروم ہو جائے گا۔
(2)
یہ حکم ہر قاتل کے لیے ہے، خواہ اصحاب الفروض میں سے ہو یا عصبہ میں سے ہو، مثلاً:
اگر ایک شخص کے دوبیٹے ہوں، ان میں سے ایک اپنے باپ کا قتل کردے تو مقتول کے ترکے میں سے اصحاب الفروض کا حصہ نکال کرباقی مال مقتول کےاس بیٹے کو ملے گا جو قتل کے جرم میں شریک نہیں۔
دوسرا بیٹا جو قاتل ہے اسے کچھ نہیں ملے گا۔
(3)
قتل کا محرک بعض دفعہ یہ جذبہ بھی ہوتا ہے کہ قاتل مقتول کی وراثت جلد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
حدیث میں مذکورہ قانون کی وجہ سے یہ محرک ختم ہوجاتا ہے۔
اس طرح یہ قانون انسانوں کی جانوں کا محافظ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2735]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2109
قاتل کی میراث باطل ہونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2109]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قاتل (مقتول کا) وارث نہیں ہو گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2109]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے،
لیکن حدیث عمر،
عبداللہ بن عمرو بن العاص،
اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے،
الإرواء: 1670، 1671، 1672)
نوٹ:
(سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے،
لیکن حدیث عمر،
عبداللہ بن عمرو بن العاص،
اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے،
الإرواء: 1670، 1671، 1672)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2109]
Sunan Ibn Majah Hadith 2735 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي