🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : فضل الغدوة والروحة في سبيل الله عز وجل
باب: اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1649)، (تحفة الأشراف: 13428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2792)، مسند احمد (2/532، 533) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم
Newسلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سلمان مولى عزة
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← محمد بن عجلان القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2755
غدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2755 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2755
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی راہ میں اگرچہ اس سے خلوص سے کی جانے والی ہر نیکی مراد لی جاسکتی ہے تاہم قرآن وحدیث میں یہ لفظ زیادہ تر جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

(2) (دنيا ومافيها)
سے مراد دنیا میں موجود تمام دولت اور تمام خزانے ہیں، یعنی جس طرح ایک دنیا کے طالب کے لیے یہ سب کچھ انتہائی محبوب اور قیمتی ہے۔
اللہ کی نظر میں جہاد اس سے بھی بڑھ کر محبوب اور قیمتی ہے۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہر مومن کی نظر میں جہاد دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے یعنی دنیا کی دولت ختم ہونے والی ہے جب کہ جہاد کا ثواب جنت کی نعمتیں ہیں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دنیا بھر کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جتنا ثواب ہو سکتا ہے جہاد میں گزرا ہوا تھوڑا سا وقت اس سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
جو مطلب بھی مراد لیا جائے حدیث کا اصل مقصود جہاد کی فضیلت اور بے حساب ثواب کا اثبات ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2755]