سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : الرمي في سبيل الله
باب: اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَقَدْ عَصَانِي".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2814]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے تیراندازی سیکھی، پھر چھوڑ دی اس نے میری نافرمانی کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9971)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 24 (2513)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1637)، سنن النسائی/الجہاد 26 (3148)، الخیل 8 (3608)، مسند احمد (4/144، 146، 148، 154، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2449) (ضعیف)» (فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے، اور «فلیس منّا» کے لفظ سے صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ فليس منا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853)
و حديث مسلم (1919) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
إسناده ضعيف
عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853)
و حديث مسلم (1919) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4949
| من علم الرمي ثم تركه فليس منا أو قد عصى |
سنن ابن ماجه |
2814
| من تعلم الرمي ثم تركه فقد عصاني |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2814 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2814
اردو حاشہ:
فائدہ:
اسلحہ کی ٹرینگ لینے کے بعد اس کی مشق کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے استعمال کی مہارت قائم رہے اور جہاد کے موقع پر مشکل پیش نہ آئے۔
فائدہ:
اسلحہ کی ٹرینگ لینے کے بعد اس کی مشق کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے استعمال کی مہارت قائم رہے اور جہاد کے موقع پر مشکل پیش نہ آئے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2814]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4949
فقیم لخمی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا، آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں اور آپ بوڑھے ہیں، آپ کے لیے یہ مشکل (مشقت کا) کام ہے، حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات نہ سنی ہوتی تو میں یہ مشقت نہ جھیلتا، حارث کہتے ہیں، میں نے ابن شماسہ سے پوچھا، وہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازہ سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا، وہ ہم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4949]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جنگی اسلحہ کی تربیت حاصل کر کے اس کو نظر انداز کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
جنگی اسلحہ کی تربیت حاصل کر کے اس کو نظر انداز کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4949]
Sunan Ibn Majah Hadith 2814 in Urdu
المغيرة بن نهيك الحميري ← عقبة بن عامر الجهني