🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : ما قطع من البهيمة وهي حية
باب: زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والے حصے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3216
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ، فَمَا قُطِعَ مِنْهَا فَهُوَ مَيْتَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3216]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر جانور سے کچھ کاٹ لیا جائے جب کہ وہ زندہ ہو تو جو کچھ اس سے کاٹا گیا، وہ مردار ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6737، ومصباح الزجاجة: 1105) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← هشام بن سعد القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف
Newيعقوب بن كاسب المدني ← معن بن عيسى القزاز
صدوق يهم
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3216
ما قطع من البهيمة وهي حية فما قطع منها فهو ميتة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3216 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3216
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زندہ جانور سے اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹنا حرام ہے۔

(2)
اس طرح کاٹا ہوا گوشت حرام ہے اگرچہ تکبیر پڑھ کر ہی کاٹا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3216]

Sunan Ibn Majah Hadith 3216 in Urdu