علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : الأكل متكئا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً , فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے، اس پر ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3263]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایک بکری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیے کے طور پر پیش کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھانے لگے۔ ایک اعرابی نے (تعجب سے) کہا: ”بیٹھنے کا یہ کیسا انداز ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے شریف بندہ بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5202، ومصباح الزجاجة: 1121)، وقد أخرج بعضہ: سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3773) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3263
| الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3263 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3263
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
محمدفواد عبدالباقی رحمہ اللہ نے اتکاء (ٹیک لگانے)
کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں:
۔
(الف)
چار زانو (چوکڑی مار کر)
بیٹھنا۔
(ب)
اچھی طرح کھل کر بیٹھنا۔
(ج)
پیٹھ کی چیز (دیوار وغیرہ)
سے لگا کر بیٹھنا۔
(د)
ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر (اس پر سہارا لےکر)
بیٹھنا۔
عام طور پر اس لفظ سے تیسرا مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔
(2)
گھٹنوں کے بل بیٹھنے سےمراد تشہد کی طرح بیٹھنا یا اکڑوں بیٹھنا ہے یعنی پنڈلیاں کھڑى کرکے پاؤں کے پورے تلوے زمین پر لگا کر ان پر بیٹھنا۔
(3)
تکبر کی ہر صورت مذموم ہے۔
اور ہرکام میں تواضع قابل تعریف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
محمدفواد عبدالباقی رحمہ اللہ نے اتکاء (ٹیک لگانے)
کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں:
۔
(الف)
چار زانو (چوکڑی مار کر)
بیٹھنا۔
(ب)
اچھی طرح کھل کر بیٹھنا۔
(ج)
پیٹھ کی چیز (دیوار وغیرہ)
سے لگا کر بیٹھنا۔
(د)
ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر (اس پر سہارا لےکر)
بیٹھنا۔
عام طور پر اس لفظ سے تیسرا مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔
(2)
گھٹنوں کے بل بیٹھنے سےمراد تشہد کی طرح بیٹھنا یا اکڑوں بیٹھنا ہے یعنی پنڈلیاں کھڑى کرکے پاؤں کے پورے تلوے زمین پر لگا کر ان پر بیٹھنا۔
(3)
تکبر کی ہر صورت مذموم ہے۔
اور ہرکام میں تواضع قابل تعریف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3263]
Sunan Ibn Majah Hadith 3263 in Urdu
محمد بن عبد الرحمن اليحصبي ← عبد الله بن بسر النصري