🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : الأكل متكئا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398، 5399)، سنن ابی داود/الأطعمة 17 (3769)، سنن الترمذی/الاطعمة 28 (1830)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بے تکلفی کو پسند کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥علي بن الأقمر الوادعي، أبو الوازع
Newعلي بن الأقمر الوادعي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← علي بن الأقمر الوادعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5399
لا آكل وأنا متكئ
صحيح البخاري
5398
لا آكل متكئا
جامع الترمذي
1830
لا آكل متكئا
سنن أبي داود
3769
لا آكل متكئا
سنن ابن ماجه
3262
لا آكل متكئا
بلوغ المرام
900
لا آكل متكئا
مسندالحميدي
915
لا آكل متكئا