🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما جاء في كراهية الأكل متكئا
باب: ٹیک لگا کر کھانے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ.
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے،
۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398)، سنن ابی داود/ الأطعمة 17 (3769)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3262)، (تحفة الأشراف: 11801)، و مسند احمد (4/308)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: (۱) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، (۲) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3262)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥علي بن الأقمر الوادعي، أبو الوازع
Newعلي بن الأقمر الوادعي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← علي بن الأقمر الوادعي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5399
لا آكل وأنا متكئ
صحيح البخاري
5398
لا آكل متكئا
جامع الترمذي
1830
لا آكل متكئا
سنن أبي داود
3769
لا آكل متكئا
سنن ابن ماجه
3262
لا آكل متكئا
بلوغ المرام
900
لا آكل متكئا
مسندالحميدي
915
لا آكل متكئا
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1830 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1830
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ٹیک لگا نے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں:

(1)
کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا،

(2)
زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے،
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے،
حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے،
یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پربیٹھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1830]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:915
915- سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ہوں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:915]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھانا چا ہیے، کیونکہ اس میں تکبر ہے، بلکہ کھانا عاجزی سے کھانا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 914]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5399
5399. سیدنا ابو حجیفہ ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ نے اپنےپاس موجود ایک آدمی (صحابی) سے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5399]
حدیث حاشیہ:
ہر دو احادیث سے تکیہ لگا کر کھانا منع ثابت ہو لیکن ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عباس اور حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہم وغیرہ سے اس کا جواز بھی نقل کیا ہے مگر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے جس کے آگے دیگر ہیچ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5399]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5399
5399. سیدنا ابو حجیفہ ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ نے اپنےپاس موجود ایک آدمی (صحابی) سے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5399]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ ٹیک لگا کر نہ کھانا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا، امت کے لیے منع نہیں ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے کہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ایسا کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ متکبرین کا فعل ہے، تاہم کسی عذر کی وجہ سے ٹیک لگا کر کھایا جا سکتا ہے، لیکن حضرت ابن عباس، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہم، حضرت عبیدہ سلمانی، محمد بن سیرین، عطاء بن یسار اور امام زہری رحمہم اللہ مطلق طور پر ٹیک لگا کر کھانے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 670/9)
ہمارے رجحان کے مطابق ٹیک لگا کر کھانا کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
جائز اس لیے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا اور کراہت اس لیے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے خلاف ہے۔
(2)
کھانے والے کے لیے مستحب یہ ہے کہ کھاتے وقت درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کرے:
٭ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے جیسا کہ تشہد میں بیٹھا جاتا ہے۔
٭ دایاں گھٹنا کھڑا کر کے بایاں پاؤں زمین پر بچھا دے۔
(فتح الباري: 671/9) (3)
ٹیک لگا کر کھانے کی کراہت اس لیے ہے کہ اس سے پیٹ بڑھنے کا اندیشہ ہے جیسا کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے اسلاف سے نقل کیا ہے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 140/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5399]