سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : الحوارى
باب: میدہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3338
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" زَارَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بَيِنَنَا , فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الْأُوَلِ , فَبَكَى , وَقَالَ:" مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ".
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی (چہ جائے کہ کھاتے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14205، ومصباح الزجاجة: 1153) (ضعیف)» (ابن عطاء یہ عثمان بن عطاء ہیں اور ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک روٹی نہیں دیکھی یعنی چپاتی کیونکہ یہ روٹی موٹے آٹے کی نہیں پک سکتی بلکہ اکثر میدے کی پکاتے ہیں، بلکہ آپ ہمیشہ موٹی روٹی وہ بھی اکثر جو کی کھایا کرتے، اور بے چھنے آٹے کی وہ بھی روز پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی، ایک دن کھایا، تو ایک دن فاقہ «سبحان اللہ» ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ حال تھا، اور ہم روز کیسے کیسے عمدہ کھانے خوش ذائقہ اور نئی ترکیب کے جن کو اگلے لوگوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کھاتے ہیں، اور وہ بھی ناکوں ناک پیٹ بھر کر وہ بھی اسی طرح سے کہ حلال حرام کا کچھ خیال نہیں، مشتبہ کا تو کیا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
إسناده ضعيف
ضعفه البوصيري من أجل عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5414
| خرج رسول الله من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير |
صحيح مسلم |
7458
| ما شبع نبي الله وأهله ثلاثة أيام تباعا من خبز حنطة حتى فارق الدنيا |
صحيح مسلم |
7457
| ما أشبع رسول الله أهله ثلاثة أيام تباعا من خبز حنطة حتى فارق الدنيا |
جامع الترمذي |
2358
| ما شبع رسول الله وأهله ثلاثا تباعا من خبز البر حتى فارق الدنيا |
سنن ابن ماجه |
3343
| ما شبع نبي الله ثلاثة أيام تباعا من خبز الحنطة حتى توفاه الله |
سنن ابن ماجه |
3338
| ما رأى رسول الله هذا بعينه قط |
عطاء بن أبي مسلم الخراساني ← أبو هريرة الدوسي