علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : الرجل يسلم عليه وهو يبول
باب: پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔
حدیث نمبر: 352
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتَنِي عَلَى مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَمْ أَرُدَّ عَلَيْكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جب تم مجھے اس حالت میں دیکھو تو سلام نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو میں جواب نہ دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2374، ومصباح الزجاجة: 146) (صحیح)» (سوید بن سعید ضعیف راوی ہے، لیکن ان کی متابعت عیسیٰ بن یونس سے مسند أبی یعلی میں موجود ہے، اور منتقی ابن الجارود: 1/23، میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شاہد موجود ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن محمد بن عقيل ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 353) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن محمد بن عقيل ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 353) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
352
| إذا رأيتني على مثل هذه الحالة فلا تسلم علي فإنك إن فعلت ذلك لم أرد عليك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 352 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث352
اردو حاشہ:
قضائے حاجت یا پیشاب میں مشغولیت کے موقع پر سلام کا جواب دینا درست نہیں اس لیے بہتر ہے کہ ایسی صورت حال میں سلام نہ کہا جائے۔
واللہ أعلم
قضائے حاجت یا پیشاب میں مشغولیت کے موقع پر سلام کا جواب دینا درست نہیں اس لیے بہتر ہے کہ ایسی صورت حال میں سلام نہ کہا جائے۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 352]
Sunan Ibn Majah Hadith 352 in Urdu
عبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري