سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : الاستنجاء بالماء
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 354
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ قَطُّ إِلَّا مَسَّ مَاءً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نہ دیکھا کہ آپ پاخانہ سے نکلے ہوں اور پانی نہ لیا ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16000، ومصباح الزجاجة: 147) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پانی سے استنجاء کرتے تھے، کیونکہ پانی سے بھر پور طہارت حاصل ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم النخعي كان يدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
إسناده ضعيف
إبراهيم النخعي كان يدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
354
| خرج من غائط قط إلا مس ماء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 354 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث354
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر میں معمول پانی سے استنجاء کرنے کا تھا کیونکہ اس سے زیادہ اور بہتر صفائی ہوسکتی ہے۔
(2)
گھر سے باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموما ڈھیلوں سے استنجاء کرتے تھے۔
لیکن بعض اوقات پانی باہر بھی لے جاتے تھے۔
(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر میں معمول پانی سے استنجاء کرنے کا تھا کیونکہ اس سے زیادہ اور بہتر صفائی ہوسکتی ہے۔
(2)
گھر سے باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموما ڈھیلوں سے استنجاء کرتے تھے۔
لیکن بعض اوقات پانی باہر بھی لے جاتے تھے۔
(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 354]
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق