🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب : الاستنجاء بالماء
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 355
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ سورة التوبة آية 108، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطُّهُورِ، فَمَا طُهُورُكُمْ"؟ قَالُوا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَنَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ، قَالَ:" فَهُوَ ذَاكَ فَعَلَيْكُمُوهُ".
ابوایوب انصاری، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا والله يحب المطهرين» اس میں کچھ لوگ ہیں جو پاکی کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاکی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورة التوبة: 108)، اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے، تو وہ تمہاری کیسی طہارت ہے، ان لوگوں نے کہا: ہماری طہارت یہ ہے کہ ہم لوگ نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، اور جنابت ہونے سے غسل کرتے ہیں، اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی کا) یہی سبب ہے، لہٰذا تم لوگ اس طہارت پر کاربند رہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 355]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 926، 2337، 3460، ومصباح الزجاجة: 148)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/6) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ سند ضعیف ہے، عتبہ بن أبی حکیم ضعیف راوی ہیں، اور طلحہ نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 34)
وضاحت: ۱؎: یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ جل جلالہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے، اور ضمیر اس آیت میں مسجد قبا، یا مسجد نبوی کی طرف لوٹ رہی ہے، شاید پانی سے استنجا کرنے سے ہی ان کی تعریف کی گئی ہے، ورنہ غسل جنابت اور وضو مہاجرین بھی کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
صحابي
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب
Newأبو أيوب الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← أبو أيوب الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عتبة بن أبي حكيم الشعباني، أبو العباس
Newعتبة بن أبي حكيم الشعباني ← طلحة بن نافع القرشي
صدوق يخطئ كثيرا
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس
Newصدقة بن خالد القرشي ← عتبة بن أبي حكيم الشعباني
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
355
أثنى عليكم في الطهور فما طهوركم نتوضأ للصلاة ونغتسل من الجنابة ونستنجي بالماء قال فهو ذاك فعليكموه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 355 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث355
اردو حاشہ:
(1)
وضو اور غسل جنابت تو تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔
صرف پانی سے استنجاء ایسی چیز ہے جس پر بعض لوگوں کا عمل نہ کرنا ممکن ہے جس کی وجہ سے عمل کرنے والے قابل تعریف ہوں۔
بہرحال اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی پر اکتفاء کرنے کے بجائے پانی استعمال کرنا افضل ہے۔

(2)
آیت مبارکہ میں جس مسجد کا ذکر ہے اس سے بعض علماء نے مسجد نبوی اور بعض نے قباء مراد لی ہے، تاہم دونو ں مساجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے۔
اور دونوں مساجد میں نماز پڑھنے والے طہارت اور نظافت کا اہتمام کرنے والے تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 355]