سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ما يقول الرجل إذا لبس ثوبا جديدا
باب: آدمی نیا کپڑے پہنے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3558
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ , فَقَالَ:" ثَوْبُكَ هَذَا غَسِيلٌ أَمْ جَدِيدٌ" , قَالَ: لَا بَلْ غَسِيلٌ , قَالَ:" الْبَسْ جَدِيدًا , وَعِشْ حَمِيدًا , وَمُتْ شَهِيدًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: ”تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے“؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا» ”نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6950، ومصباح الزجاجة: 1243)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن
وله شاھد ضعيف عند ابن أبي شيبة (8/ 265۔266،10 / 402)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
إسناده ضعيف
الزھري عنعن
وله شاھد ضعيف عند ابن أبي شيبة (8/ 265۔266،10 / 402)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥الحسين بن مهدي الأبلي، أبو سعيد الحسين بن مهدي الأبلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | صدوق حسن الحديث |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3558
| البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3558 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3558
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سفید لباس بہترین لباس ہے۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھا۔
(2)
پہلی روایت (3557)
کو امام ابن حبان امام بو صیری حافظ ابن حجر اور شیخ البانی نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جبکہ ہمارے فاضل محقق نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور انھی کے رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
مسند احمد کے محققین نے بھی طویل بحث کے بعد اسے منکر قرار دیا ہے اور دکتور بشار عواد نے بھی اس حدیث پر یہی حکم لگایا ہے لہٰذا ہمارے فہم کے مطابق اس موقع پر دوسری صحیح احادیث میں وارد دعائیں پڑھنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اءعلم۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثية مسند الإمام أحمد: 441، 442 و سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 3558)
(3)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا لباس پہنتے تو یہ دیا پڑھتے:
(اللهم لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ خَيرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لُه)
”اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے۔
تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے۔
میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔
اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ (سنن أبي داؤد، اللباس، باب ما يقول إذا لبس ثوباً جديداً، حديث: 4020)
اور جب عام لباس پہنتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:
(الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے مجھےیہ لباس پہنایا اور میری ذاتی قوت اور طاقت کے بغیر مجھے عطا کیا۔“
(سنن أبي داؤد، اللباس، باب ما يقول إذا لبس ثوباً جديداً حديث: 4023)
ابوداؤد میں ہی ابو نصرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اسے یوں دعا دی جاتی:
(تبلى ويخلف الله تعالىٰ)
”اللہ کرے تم اسے خوب (استعمال کرکے)
پرانا کرو۔
اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بعد اور بھی عنایت فرمائے۔“ (حوالہ مذکورہ)
مذکورہ دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہیں لہذا ہمیں مسنون دعاؤں ہی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
سفید لباس بہترین لباس ہے۔
یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھا۔
(2)
پہلی روایت (3557)
کو امام ابن حبان امام بو صیری حافظ ابن حجر اور شیخ البانی نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جبکہ ہمارے فاضل محقق نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور انھی کے رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
مسند احمد کے محققین نے بھی طویل بحث کے بعد اسے منکر قرار دیا ہے اور دکتور بشار عواد نے بھی اس حدیث پر یہی حکم لگایا ہے لہٰذا ہمارے فہم کے مطابق اس موقع پر دوسری صحیح احادیث میں وارد دعائیں پڑھنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اءعلم۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثية مسند الإمام أحمد: 441، 442 و سنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 3558)
(3)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا لباس پہنتے تو یہ دیا پڑھتے:
(اللهم لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ أَسْأَلُكَ خَيرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لُه)
”اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے۔
تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے۔
میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔
اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اس شر سے جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ (سنن أبي داؤد، اللباس، باب ما يقول إذا لبس ثوباً جديداً، حديث: 4020)
اور جب عام لباس پہنتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:
(الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے مجھےیہ لباس پہنایا اور میری ذاتی قوت اور طاقت کے بغیر مجھے عطا کیا۔“
(سنن أبي داؤد، اللباس، باب ما يقول إذا لبس ثوباً جديداً حديث: 4023)
ابوداؤد میں ہی ابو نصرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اسے یوں دعا دی جاتی:
(تبلى ويخلف الله تعالىٰ)
”اللہ کرے تم اسے خوب (استعمال کرکے)
پرانا کرو۔
اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بعد اور بھی عنایت فرمائے۔“ (حوالہ مذکورہ)
مذکورہ دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہیں لہذا ہمیں مسنون دعاؤں ہی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3558]
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي