🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب : ما يكره من الأسماء
باب: ناپسندیدہ اور برے ناموں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3730
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ الرُّكَيْنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَمُرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ , أَفْلَحُ , وَنَافِعٌ , وَرَبَاحٌ , وَيَسَارٌ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا ہے: «افلح»، «نافع»، «رباح» اور «یسار» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3730]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا: «أَفْلَحَ»، «نَافِعٌ»، «رَبَاحٌ»، «يَسَارٌ» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأداب 2 (2136)، سنن ابی داود/الأدب 70 (4958، 4959)، سنن الترمذی/الأدب 65 (2836)، (تحفة الأشراف: 4612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/7، 10، 12، 21)، سنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الربيع بن عميلة الفزاري
Newالربيع بن عميلة الفزاري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة
👤←👥ركين بن الربيع الفزاري، أبو الربيع
Newركين بن الربيع الفزاري ← الربيع بن عميلة الفزاري
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← ركين بن الربيع الفزاري
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5600
لا تسم غلامك رباحا ولا يسارا ولا أفلح ولا نافعا
صحيح مسلم
5599
نسمي رقيقنا بأربعة أسماء أفلح ورباح ويسار ونافع
جامع الترمذي
2836
لا تسم غلامك رباح ولا أفلح ولا يسار ولا نجيح يقال أثم هو فيقال لا
سنن أبي داود
4958
لا تسمين غلامك يسارا ولا رباحا ولا نجيحا ولا أفلح
سنن أبي داود
4959
نسمي رقيقنا أربعة أسماء أفلح ويسارا ونافعا ورباحا
سنن ابن ماجه
3730
أن نسمي رقيقنا أربعة أسماء أفلح ونافع ورباح ويسار
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3730 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3730
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ایک حدیث میں اس ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کیونکہ تو کہے گا:
کیا وہ یہاں موجود ہے؟ وہ نہیں ہو گا تو (جواب دینے والا)
کہے گا نہیں۔ (صحیح مسلم)
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ گھر میں نافع ہے اور جواب میں کہا جائے کہ موجود نہیں۔
گویا آپ نے یہ کہا کہ گھر میں فائدہ دینے والا کوئی شخص موجود نہیں، سب نکمے ہیں۔
اگرچہ متکلم کا مقصد یہ نہیں ہو گا، تاہم ظاہری طور پر ایک نامناسب بات بنتی ہے، لہذا ایسے نام رکھنا مکروہ ہے لیکن حرام نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3730]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2836
ناپسندیدہ ناموں کا بیان۔
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے غلام کا نام رباح، افلح، یسار اور نجیح نہ رکھو (کیونکہ) پوچھا جائے کہ کیا وہ یہاں ہے؟ تو کہا جائے گا: نہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2836]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (رباح) فائدہ دینے والا (افلح) فلاح والا (یسار) آسانی (نجیح) کامیاب رہنے والا،
ان ناموں کے رکھنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ اگر کسی سے پوچھا جائے:
کیا افلح یہاں ہے اورجواب میں کہا جائے کہ نہیں تولوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2836]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5599
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا، افلح، رباح، یسار اور نافع۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5599]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام طور پر لوگ اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھتے تھے،
افلح،
کامیاب،
رَبَاح،
نفع بخش تجارت،
يسار،
آسان اور سہل،
نافع،
سود مند،
اب اگر کوئی شخص آ کر پوچھے کہ نافع ہے یا رباح ہے اور جواب میں کہا جائے،
میرے پاس یا گھر میں نافع یا یسار نہیں ہے تو یہ ایک قسم کی قبیح اور بری صورت ہے اور بعض لوگ اس سے بدشگونی میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں اور اس نہی کا تعلق ادب اور سلیقہ سے ہے،
اس لیے آپ نے اپنے غلام رباح اور یسار کا نام تبدیل نہیں کیا تھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مشہور غلام اور شاگرد کا نام نافع تھا،
جو ایک جلیل القدر محدث ہیں اور امام مالک کے کبار اساتذہ میں سے ہے،
جن کی سند کو سونے کی زنجیر کا نام دیا جاتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5599]

Sunan Ibn Majah Hadith 3730 in Urdu