سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : المستشار مؤتمن
باب: مشیر کار کے امانت دار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3747
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَشَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ , فَلْيُشِرْ عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2939) (ضعیف)» (سند میں عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي: ضعيف
ومن أجله ضعفه البوصيري وأبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
إسناده ضعيف
محمد بن أبي ليلي: ضعيف
ومن أجله ضعفه البوصيري وأبو الزبير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3747
| إذا استشار أحدكم أخاه فليشر عليه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3747 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3747
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مسلمان کو صحیح مشورہ دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمان پر مسلمان کی خیر خواہی فرض ہے جیسا کہ دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
فوائد و مسائل:
مسلمان کو صحیح مشورہ دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمان پر مسلمان کی خیر خواہی فرض ہے جیسا کہ دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3747]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري