🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : الشعر
باب: شعر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى , عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَنْشَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ قَافِيَةٍ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , يَقُولُ بَيْنَ كُلِّ قَافِيَةٍ:" هِيهْ" , وَقَالَ:" كَادَ أَنْ يُسْلِمَ".
شرید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے امیہ بن ابی صلت کے سو اشعار پڑھے، آپ ہر شعر کے بعد فرماتے جاتے: اور پڑھو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3758]
حضرت شرید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ بن ابو صلت کے سو شعر سنائے۔ آپ ہر شعر کے بعد فرماتے: (اور شعر) سناؤ۔ اور فرمایا: قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الشعر (2255)، سنن الترمذی/الشمائل (249)، سنن النسائی/الیوم و للیلة (998)، (تحفة الأشراف: 4836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388، 389) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الشريد بن سويد الثقفي، أبو عمروصحابي
👤←👥عمرو بن الشريد الثقفي، أبو الوليد
Newعمرو بن الشريد الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، أبو يعلى
Newعبد الله بن عبد الرحمن الطائفي ← عمرو بن الشريد الثقفي
صدوق يخطئ ويهم
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي
ثقة مأمون
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5885
هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء قلت نعم قال هيه فأنشدته بيتا فقال هيه ثم أنشدته بيتا فقال هيه حتى أنشدته مائة بيت
سنن ابن ماجه
3758
كاد أن يسلم
مسندالحميدي
828
هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت شيء؟
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3758 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3758
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اچھے اشعار کی تعریف کرنا اور فرمائش کر کے سننا جائز ہے، خواہ کسی غیر مسلم شاعر ہی کے ہوں۔
اچھے شعر سے مراد یہ ہے کہ اس میں کفر و شرک یا فسق وفجور والی باتیں نہ ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3758]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:828
828-عمروبن شرید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں امیہ بن ابوصلت کا کوئی شعر یاد ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سناؤ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شعر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور سناؤ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور شعر سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی فرماتے رہے اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سو اشعار سنائے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:828]
فائدہ:
اشعارا گر حکمت پر مبنی ہوں اور ان میں شرک اور بے حیائی نہ ہو تو انھیں سننا اور سنانا جائز ہے، تاہم شعروں کی کثرت خواہ اچھے ہی ہوں مذموم ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 828]

Sunan Ibn Majah Hadith 3758 in Urdu