سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: الشِّعْرِ
باب: شعر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3755
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک کچھ شعر حکمت و دانائی پر مبنی ہوتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3755]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ اشعار دانائی اور حکمت ہوتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 90 (6145)، سنن ابی داود/الأدب 95 (5009، 5010)، (تحفة الأشراف: 59)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 125، 126)، سنن الدارمی/الاستئذان 68 (2746) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3756
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ زَائِدَةَ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3756]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”شعروں میں حکمت کی باتیں بھی ہوتی ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 95 (5011)، سنن الترمذی/الأدب 69 (2845)، (تحفة الأشراف: 6106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 273، 303، 309، 313، 327، 332) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ , وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید (شاعر) کا یہ شعر ہے «ألا كل شيء ما خلا الله باطل» سن لو! اللہ کے علاوہ ساری چیزیں فانی ہیں اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3757]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شاعر کی کہی ہوئی سب سے سچی بات لبید کا یہ کلام ہے: «أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللهَ بَاطِلُ» ”اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔“ اور امیہ بن ابی صلت قریب تھا کہ مسلمان ہو جاتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 26 (3841)، صحیح مسلم/الشعر (2256)، سنن الترمذی/الأدب 70 (2849)، (تحفة الأشراف: 14976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/248، 391، 393، 444، 458، 470، 480) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3758
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى , عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَنْشَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ قَافِيَةٍ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , يَقُولُ بَيْنَ كُلِّ قَافِيَةٍ:" هِيهْ" , وَقَالَ:" كَادَ أَنْ يُسْلِمَ".
شرید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے امیہ بن ابی صلت کے سو اشعار پڑھے، آپ ہر شعر کے بعد فرماتے جاتے: اور پڑھو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3758]
حضرت شرید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ بن ابو صلت کے سو شعر سنائے۔ آپ ہر شعر کے بعد فرماتے: ”(اور شعر) سناؤ۔“ اور فرمایا: ”قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الشعر (2255)، سنن الترمذی/الشمائل (249)، سنن النسائی/الیوم و للیلة (998)، (تحفة الأشراف: 4836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388، 389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم