🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. بَابُ: مَا كُرِهَ مِنَ الشِّعْرِ
باب: برے اور نا پسندیدہ اشعار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَوَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا , حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ , مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا" , إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ:" يَرِيَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیماری کے سبب آدمی کے پیٹ کا مواد سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۱؎۔ حفص نے «یریہ» کا لفظ ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3759]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے پیٹ کا (برے اور گندے) شعروں سے بھرے ہونے سے بہتر یہ ہے کہ وہ پیپ سے بھرا ہوا ہو جس سے وہ بیمار ہوجائے۔ روایت کے راوی حفص نے «يَرِيَهُ» کے لفظ بیان نہیں کیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 92 (6155)، صحیح مسلم/الشعر (2257)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2851)، (تحفة الأشراف: 12364، 12468، 12523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 355، 391، 480) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسے اشعار سے جس میں کفر، فسق یا مبالغہ و کذب کے مضامین ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنِي قَتَادَةُ , عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا , حَتَّى يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ (مواد) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3760]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے پیٹ کا شعروں سے بھرے ہونے سے بہتر یہ ہے کہ وہ پیپ سے بھرا ہوا ہو جس سے وہ بیمار ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الشعر (2258)، سنن الترمذی/الأدب 71 (2852)، (تحفة الأشراف: 3919)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/175، 177، 181) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ شَيْبَانَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِرْيَةً لَرَجُلٌ هَاجَى رَجُلًا , فَهَجَا الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا , وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ , وَزَنَّى أُمَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان لگانے والا وہ شخص ہے جو کسی ایک شخص کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ اس کی ساری قوم کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کو باپ بنائے، اور اپنی ماں کو زنا کا مرتکب قرار دے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3761]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا جھوٹ بولنے والا شخص وہ ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کی ہجو کی تو اس نے (جواب میں) پورے قبیلے کی ہجو کی (یہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔) اور وہ آدمی جو اپنے باپ سے نسبی تعلق توڑتا ہے اور اپنی ماں کو بدکار قرار دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16329، ومصباح الزجاجة: 1315) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب باپ کو چھوڑ کر اپنے کو دوسرے کا بیٹا قرار دیا تو گویا اس نے اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
وحديث البخاري (3509) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں