🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. باب : ثواب القرآن
باب: تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3782
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ , أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ"، قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ:" فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ عِظَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں (کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 41 (802)، (تحفة الأشراف: 12471)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/396، 466، 496) سنن الدارمی/فضائل القرآن 1 (3357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1872
أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان قلنا نعم قال فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان
سنن ابن ماجه
3782
أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان قلنا نعم قال فثلاث آيات يقرؤهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات سمان عظام
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3782 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3782
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  قرآن مجید کی تلاوت کا فائدہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔

(2)
حاملہ اونٹنیوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس دور میں عربوں کے نزدیک یہ سب سے عمدہ اور قیمتی مال تھا۔

(3)
نماز میں تلاوت کا ثواب نماز کے علاوہ تلاوت سے زیادہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3782]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1872
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ جب اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین حاملہ بڑی بڑی فربہ اونٹنیاں پائے؟ ہم نے عرض کیا، جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اسکے لیے تین حاملہ بھاری بھرکم اور موٹی تازی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1872]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خَلِفات:
خَلِفَةٌ کی جمع ہے،
اس حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی آدھی مدت حمل گزر چکی ہو۔
(2)
عِظَام:
عظیم کی جمع ہے،
قد و قامت میں بڑی،
سِمَان،
سَمِيْن کی جمع فربہ،
موٹی تازی۔
فوائد ومسائل:
ایک مسلمان کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اور اس میں انتہائی احترام و عقیدت سے قرآءت کرتا ہے ایک آیت کا اجرو ثواب ایک موٹی تازی اور بھاری بھر کم حاملہ اونٹنی کے مل جانے سے بہتر ہے اور اہل عرب کے ہاں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ و عمدہ اور قیمتی سواری تھی جو ان کے سفر و حضر،
امن و جنگ کا ساتھی تھا گویا ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سامان اور اعلیٰ ثروت نیکیاں ہیں جو آخرت کی لازوال زندگی میں کام آنے والی ہیں یہ دنیا کا عارضی و فانی مال نہیں چاہے وہ کتنا ہی قیمتی اور عمدہ کیوں نہ ہو۔
آخر فانی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1872]