سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : رؤية النبي صلى الله عليه وسلم في المنام
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , قَالَ: أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ عَمَّارٍ هُوَ الدُّهْنِيُّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ , فَقَدْ رَآنِي , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا، یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5581، ومصباح الزجاجة: 1365)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/279، 361) (صحیح) (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہے، لیکن دوسرے طرق و شواہد سے یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3905
| من رآني في المنام فقد رآني الشيطان لا يتمثل بي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3905 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3905
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بعض خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں جیسے اگلے باب میں آرہا ہے۔
یہ خواب سچے ہوتے ہیں۔
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی اسی قسم میں شامل ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس حلیے کے مطابق ہوتو خواب سچا ہے تعبیر کی ضرورت نہیں۔
اگر خواب میں حلیہ مبارک مختلف نظر آئے تو اس کی تعبیر کی جائے گی۔
اور یہ سیکھنے والے کے دین و خلق میں نقص اور کوتاہی کا اظہار ہے۔ (فتح الباري: 484/13)
(3)
شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے ان کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل ضروری ہے۔
(4)
بعض لوگ جھوٹ موٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا دعویٰ کردیتے ہیں حالانکہ انھیں ایسا کوئی خواب نہیں آیا ہوتا۔
یہ بہت بڑا گناہ اور نہایت سنگین جرم ہے۔ (دیکھیے: حدیث: 3916)
فوائد و مسائل:
(1)
بعض خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں جیسے اگلے باب میں آرہا ہے۔
یہ خواب سچے ہوتے ہیں۔
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی اسی قسم میں شامل ہے۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اس حلیے کے مطابق ہوتو خواب سچا ہے تعبیر کی ضرورت نہیں۔
اگر خواب میں حلیہ مبارک مختلف نظر آئے تو اس کی تعبیر کی جائے گی۔
اور یہ سیکھنے والے کے دین و خلق میں نقص اور کوتاہی کا اظہار ہے۔ (فتح الباري: 484/13)
(3)
شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے ان کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل ضروری ہے۔
(4)
بعض لوگ جھوٹ موٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا دعویٰ کردیتے ہیں حالانکہ انھیں ایسا کوئی خواب نہیں آیا ہوتا۔
یہ بہت بڑا گناہ اور نہایت سنگین جرم ہے۔ (دیکھیے: حدیث: 3916)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3905]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي