یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : ما يكون من الفتن
باب: (امت محمدیہ میں) ہونے والے فتنوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةً فَأَطَالَ فِيهَا , فَلَمَّا انْصَرَفَ , قُلْنَا: أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَطَلْتَ الْيَوْمَ الصَّلَاةَ , قَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ , سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِأُمَّتِي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ , وَرَدَّ عَلَيَّ وَاحِدَةً , سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ غَرَقًا فَأَعْطَانِيهَا , وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَرَدَّهَا عَلَيَّ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بہت لمبی نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے (یا لوگوں نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! آج تو آپ نے نماز بہت لمبی پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، آج میں نے رغبت اور خوف والی نماز ادا کی، میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تین باتیں طلب کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دو عطا فرما دیں اور ایک قبول نہ فرمائی، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کیا تھا کہ میری امت پر اغیار میں سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے دیا، دوسری چیز میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کی تھی کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی مجھے دیا، تیسری یہ دعا کی تھی کہ میری امت آپس میں جنگ و جدال نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہ فرمائی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3951]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور اسے بہت طویل فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو صحابہ نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! آج آپ نے بہت لمبی نماز ادا کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے طلب اور خوف والی نماز ادا کی ہے۔ میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے تین چیزوں کی درخواست کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک سوال قبول نہیں فرمایا۔ میں نے یہ درخواست کی تھی کہ ان پر ان کے سوا دوسرے (غیر مسلم) دشمن مسلط نہ ہوں۔ اللہ نے مجھے یہ چیز عطا فرما دی۔ اور میں نے اللہ سے یہ درخواست کی کہ انہیں غرق کر کے ہلاک نہ کرے۔ اللہ نے مجھے یہ چیز بھی عطا فرما دی۔ اور میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ ان کی جنگ آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے میری یہ درخواست قبول نہیں فرمائی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11326، ومصباح الزجاجة: 1388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/240) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 406)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3951
| صليت صلاة رغبة ورهبة سألت الله لأمتي ثلاثا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة سألته أن لا يسلط عليهم عدوا من غيرهم فأعطانيها سألته أن لا يهلكهم غرقا فأعطانيها سألته أن لا يجعل بأسهم بينهم فردها علي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3951 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3951
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسواللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ہر قسم کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت رکھیں کثرت سے درود پڑھیں زیادہ سے زیادہ آپ کا اتباع کریں اور بدعات سے اجتناب کریں۔
(2)
دشمنوں کے تسلط سے غیر مسلموں کا ایسا غلبہ مراد ہے کہ مسلمان دنیا سے ختم ہوجائیں۔
(3)
اس دعا کی قبولیت اس طرح ظاہر ہے کہ دور نبوت سے آج تک کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جب دنیا میں کسی نہ کسی مقام پر مسلمانوں کی آزاد حکومت قائم نہ ہو علاوہ ازیں جن غیر مسلموں نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کیا اللہ تعالی نے انھی میں سے اسلام قبول کرنے والے اور اس کا دفاع کرنے والے پیدا فرمادیے۔
(4)
غرق ہونے کے عذاب سے مراد ایسی قدرتی آفت ہے جس سے سب مسلمان تباہ ہوجائیں مثلاً:
سیلاب، زلزلہ اور آندھی وغیرہ۔
امت میں عذاب اس طرح نہیں آئیں گے جس طرح گزشتہ امتوں پر یہ عذاب آئے کہ حق کے مخالفین کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔
(5)
مسلامنوں کا آپس میں جنگ وجدل اچھی بات نہیں۔
(6)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل نہیں تھے۔
اللہ تعالی نے آپ کی بعض دعائیں قبول نہیں فرمائیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسواللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے ہر قسم کی بھلائی کی خواہش رکھتے تھے۔
ہمیں بھی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت رکھیں کثرت سے درود پڑھیں زیادہ سے زیادہ آپ کا اتباع کریں اور بدعات سے اجتناب کریں۔
(2)
دشمنوں کے تسلط سے غیر مسلموں کا ایسا غلبہ مراد ہے کہ مسلمان دنیا سے ختم ہوجائیں۔
(3)
اس دعا کی قبولیت اس طرح ظاہر ہے کہ دور نبوت سے آج تک کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جب دنیا میں کسی نہ کسی مقام پر مسلمانوں کی آزاد حکومت قائم نہ ہو علاوہ ازیں جن غیر مسلموں نے مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کیا اللہ تعالی نے انھی میں سے اسلام قبول کرنے والے اور اس کا دفاع کرنے والے پیدا فرمادیے۔
(4)
غرق ہونے کے عذاب سے مراد ایسی قدرتی آفت ہے جس سے سب مسلمان تباہ ہوجائیں مثلاً:
سیلاب، زلزلہ اور آندھی وغیرہ۔
امت میں عذاب اس طرح نہیں آئیں گے جس طرح گزشتہ امتوں پر یہ عذاب آئے کہ حق کے مخالفین کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا۔
(5)
مسلامنوں کا آپس میں جنگ وجدل اچھی بات نہیں۔
(6)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل نہیں تھے۔
اللہ تعالی نے آپ کی بعض دعائیں قبول نہیں فرمائیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3951]
Sunan Ibn Majah Hadith 3951 in Urdu
عبد الله بن شداد الليثي ← معاذ بن جبل الأنصاري