علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : الصبر على البلاء
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4024
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ , فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ , قَالَ:" إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ الصَّالِحُونَ , إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يُحَوِّيهَا , وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو بخار آ رہا تھا، میں نے اپنا ہاتھ آپ پر رکھا تو آپ کے بخار کی گرمی مجھے اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اوپر سے محسوس ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بہت ہی سخت بخار ہے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا یہی حال ہے ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی (سخت) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن لوگوں پر زیادہ سخت مصیبت آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء پر“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کن پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر نیک لوگوں پر، بعض نیک لوگ ایسی تنگ دستی میں مبتلا کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک چوغہ کے سوا جسے وہ اپنے اوپر لپیٹتے رہتے ہیں کچھ نہیں ہوتا، اور بعض آزمائش سے اس قدر خوش ہوتے ہیں جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4024]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ہاتھ رکھا تو لحاف کے اوپر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا سخت بخار ہے!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم (انبیاء) اسی طرح ہوتے ہیں کہ ہمیں مصیبت (یا آزمائش) بھی دگنی آتی ہے اور ثواب بھی دوگنا ملتا ہے۔“ میں نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے زیادہ سخت آزمائش کن لوگوں کو آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نبیوں کو۔“ میں نے کہا: ”ان کے بعد؟“ فرمایا: ”نیک لوگوں کو۔ انہیں فقر کے ذریعے سے آزمایا جاتا تھا کہ (بعض اوقات) ایک آدمی کو صرف ایک چادر میسر ہوتی تھی جسے وہ جسم پر لپیٹ لیتا تھا۔ اور وہ مصیبت پر اس طرح خوش ہوتے تھے جس طرح تم راحت پر خوش ہوتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4189، ومصباح الزجاجة: 1417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4024
| أشد بلاء قال الأنبياء قلت يا رسول الله ثم من قال ثم الصالحون كان أحدهم ليبتلى بالفقر حتى ما يجد أحدهم إلا العباءة يحويها كان أحدهم ليفرح بالبلاء كما يفرح أحدكم بالرخاء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4024 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4024
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیماری کی شدت بھی آزمائش ہے۔
اس پر صبر کا ثواب بھی شدت کے مطابق زیادہ ہوتا ہے۔
(2)
فقر بھی آزمائش ہے۔
اس پر صبر اور شکر سے درجے بلند ہوتے ہیں
(3)
مشکل پر خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ثواب ملتا ہے۔
مشکل ختم ہوجائے گی لیکن اس کا ثواب جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں کا باعث ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
بیماری کی شدت بھی آزمائش ہے۔
اس پر صبر کا ثواب بھی شدت کے مطابق زیادہ ہوتا ہے۔
(2)
فقر بھی آزمائش ہے۔
اس پر صبر اور شکر سے درجے بلند ہوتے ہیں
(3)
مشکل پر خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ثواب ملتا ہے۔
مشکل ختم ہوجائے گی لیکن اس کا ثواب جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں کا باعث ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4024]
Sunan Ibn Majah Hadith 4024 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري