یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : الصبر على البلاء
باب: آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ؟ قَدْ خُضِّبَ بِالدِّمَاءِ قَدْ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ , فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ:" فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا" , قَالَ: أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟ قَالَ:" نَعَمْ أَرِنِي" , فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي , قَالَ: ادْعُ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَدَعَاهَا , فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ , قَالَ: قُلْ لَهَا فَلْتَرْجِعْ , فَقَالَ لَهَا: فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَسْبِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کر دیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے“، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھائیے“، پھر جبرائیل علیہ السلام نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4028]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ مکہ کے لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خشت زنی کر کے لہو لہان کر دیا تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”کیا بات ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا ہے۔“ حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھاؤں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھائیے۔“ انہوں نے وادی کی دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھ کر کہا: ”اس درخت کو بلائیے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: ”اسے کہیے واپس چلا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا تو وہ واپس ہو گیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کافی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف (925، ومصباح الزجاجة: 1419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/113)، سنن الدارمی/المقدمة 4 (23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4028
| ادع تلك الشجرة فدعاها فجاءت تمشي حتى قامت بين يديه قال قل لها فلترجع فقال لها فرجعت حتى عادت إلى مكانها فقال رسول الله حسبي |
سنن الدارمي |
23
| نعم فنظر إلى شجرة من ورائه فقال ادع بها فدعا بها فجاءت وقامت بين يديه فقال مرها فلترجع فأمرها فرجعت فقال رسول الله حسبي حسبي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4028 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4028
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد کے محققین اس کی بابت لکھتےہیں کہ مذکورہ روایت کی سند قوی ہےاور مسلم کی شرط پرہے نیز شیخ البانی اور دکتور بشار عواد وغیرہ نے بھی اسے صحیح قراردیا ہے جس سے تصحیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تتفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19 165، 166 وصحيح سنن ابن ماجة للألباني رقم: 3270 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4028)
(2)
یہ واقعہ دور مکی کا ہے۔
ممکن ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کسی بڑی عمر کے صحابی سے سنا ہو یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایا ہو۔
(3)
درخت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حرکت کرنا معجزہ ہے۔
یہ معجزہ دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے لیکن کچھ خاص حکمتوں کی وجہ سے کچھ تکلیفیں برداشت کرنا ضروری ہے۔
(4)
اس کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی بھی تھا کہ اللہ کی ہر مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد کے محققین اس کی بابت لکھتےہیں کہ مذکورہ روایت کی سند قوی ہےاور مسلم کی شرط پرہے نیز شیخ البانی اور دکتور بشار عواد وغیرہ نے بھی اسے صحیح قراردیا ہے جس سے تصحیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
والله اعلم۔
مزید تتفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19 165، 166 وصحيح سنن ابن ماجة للألباني رقم: 3270 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4028)
(2)
یہ واقعہ دور مکی کا ہے۔
ممکن ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کسی بڑی عمر کے صحابی سے سنا ہو یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایا ہو۔
(3)
درخت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حرکت کرنا معجزہ ہے۔
یہ معجزہ دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے لیکن کچھ خاص حکمتوں کی وجہ سے کچھ تکلیفیں برداشت کرنا ضروری ہے۔
(4)
اس کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی بھی تھا کہ اللہ کی ہر مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4028]
Sunan Ibn Majah Hadith 4028 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← أنس بن مالك الأنصاري