🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : أشراط الساعة
باب: قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , وَأَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ" وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 39 (6505)، (تحفة الأشراف: 12847) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہو گی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥عثمان بن عاصم الأسدي، أبو الحصين
Newعثمان بن عاصم الأسدي ← أبو صالح السمان
ثقة ثبت سنى
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← عثمان بن عاصم الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يزيد الرفاعي، أبو هشام
Newمحمد بن يزيد الرفاعي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
ضعيف الحديث
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن يزيد الرفاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6505
بعثت أنا والساعة كهاتين
سنن ابن ماجه
4040
بعثت أنا والساعة كهاتين وجمع بين إصبعيه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4040 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4040
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف قیامت ہی باقی ہے۔

(2)
یہ حدیث حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مبعوث ہوئے تھے۔
آسمان سے ان کا نزول اگرچہ بعد میں ہوگا لیکن اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام اپنی نبوت محمد (علیہ السلام)
کے مبلغ وداعی ہونگےاور شریعت محمدیہ ہی کو نافذ وغالب فرمائیں گے۔

(3)
مسلمان کو چاہیے کہ روزبروز بڑھتے ہوئےفتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے زیادہ کوشش کرے اور جاہلیت کے عقائد ورسوم کو رائج کرنے والوں کے خلاف ہر ممکن کوشش کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4040]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6505
6505. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں اور قیامت ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں۔ آپ کی مراد دو انگلیاں تھیں۔ اسرائیل نے ابو حصین سے روایت کرنے میں ابو بکر کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6505]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کو ایک تمثیلی انداز میں بیان فرمایا کہ جس طرح یہ دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوتی ہیں، ان میں کچھ فرق نہیں اسی طرح قیامت کے اور میرے درمیان بھی کچھ فرق نہیں۔
(2)
ان احادیث کا یہ بھی مفہوم ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں اب کسی نئے پیغمبر کی ضرورت نہیں اور نہ ان میں کوئی فاصلہ ہی ہے۔
میری امت آخری امت ہے جس پر قیامت قائم ہو گی اگرچہ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس کے قریب ہونے کو بیان کیا ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی پیش کردہ آیت میں ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6505]