🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في البناء والخراب
باب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4161
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ , حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟" , قَالُوا: قُبَّةٌ بَنَاهَا فُلَانٌ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مَالٍ يَكُونُ هَكَذَا , فَهُوَ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , فَبَلَغَ الْأَنْصَارِيَّ ذَلِكَ فَوَضَعَهَا , فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ , فَلَمْ يَرَهَا , فَسَأَلَ عَنْهَا , فَأُخْبِرَ أَنَّهُ وَضَعَهَا لِمَا بَلَغَهُ عَنْكَ , فَقَالَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ! يَرْحَمُهُ اللَّهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4161]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گول خیمے کے پاس سے گزرے جو ایک انصاری صحابی کے دروازے پر بنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: گول خیمہ ہے جو فلاں نے بنایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال بھی اس طرح (بلا ضرورت خرچ) ہو وہ قیامت کے دن اپنے مالک کے لیے وبال کا باعث ہو گا۔ انصاری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا علم ہوا تو اس نے وہ خیمہ ہٹا دیا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو وہ خیمہ نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ انصاری کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا علم ہوا تو اس نے اسے ہٹا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُهُ اللَّهُ، يَرْحَمُهُ اللَّهُ» اللہ اس پر رحمت فرمائے۔ اللہ اس پر رحمت فرمائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 196، ومصباح الزجاجة: 1476)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 169 (5237) مطولاً (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2830، سنن ابی داود: میں «يرحمه الله» کا لفظ نہیں ہے اس کی جگہ پر یہ الفاظ ہیں: «كل بناء وبال على صاحبه إلا مالاً» یعنی «إلا ما لا بد منه» )
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
و حديث أبي داود (5237) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥عيسى بن عبد الأعلى القرشي
Newعيسى بن عبد الأعلى القرشي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
مجهول
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عيسى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
👤←👥العباس بن عثمان البجلي، أبو الفضل
Newالعباس بن عثمان البجلي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2482
النفقة كلها في سبيل الله إلا البناء فلا خير فيه
سنن أبي داود
5237
كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا إلا ما لا يعني ما لا بد منه
سنن ابن ماجه
4161
كل مال يكون هكذا فهو وبال على صاحبه يوم القيامة فبلغ الأنصاري ذلك فوضعها فمر النبي بعد فلم يرها فسأل عنها فأخبر أنه وضعها لما بلغه عنك فقال يرحمه الله يرحمه الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4161 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4161
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
علامہ ابن کثیر ؒ نےقبة کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔ (القبة من الخيام:
بيت صغير مستدير) (النهايه:
ماده قبب)
قبہ (خیمہ)
اس چھوٹے سے گھر کو کہتے ہیں جو گول شکل میں ہوتا۔
گھر کے آگے اس قسم کا خیمہ لگانا غالباً امارت کا اظہار ہوتا تھا اور صرف فخر کے لیے اس قسم کی زینت جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4161]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5237
مکان بنانے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے (راہ میں) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا (نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5237]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ اپنے ذاتی مکان میں رہائش رکھتے تھے اور وہ ان کی لازمی ضرورت کی حد تک ہی محدود ہوتے تھے۔
لمبے چوڑے اور اونچے اونچے محل کھڑے کرنا جن کا کوئی حقیقی مصرف نہ ہو شرعی مزاج کے خلاف ہے۔
بلکہ اونچی اونچی تعمیرات قیامت کی علامات میں سے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5237]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2482
باب:۔۔۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفقہ سب کا سب اللہ کی راہ میں ہے سوائے اس نفقہ کے جو گھر بنانے میں صرف ہوتا ہے کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2482]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں زافر سخت وہم کے شکار ہوجاتے تھے،
اور شبیب روایت میں غلطیاں کرجاتے تھے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2482]

Sunan Ibn Majah Hadith 4161 in Urdu