🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في البناء والخراب
باب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4160
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي السَّفَرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا , فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" , فَقُلْتُ: خُصٌّ لَنَا وَهَى , نَحْنُ نُصْلِحُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أُرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 169 (5235، 5236)، سنن الترمذی/الزہد 25 (2335)، (تحفة الأشراف: 8650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن أحمد الهمداني، أبو السفر
Newسعيد بن أحمد الهمداني ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← سعيد بن أحمد الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2335
الأمر أعجل من ذلك
سنن أبي داود
5235
الأمر أسرع من ذلك
سنن ابن ماجه
4160
الأمر أعجل من ذلك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4160 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4160
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
معاملے کی جلدی سے مراد یہ ہے کہ معلوم نہیں موت کب آجائے۔
شاید مرمت کیے ہوئے گھر میں رہنا نصیب ہو یا نہ ہو۔

(2)
نصیحت میں موقع محل کی مناسبت کا خيال رکھنا چاہیے۔

(3)
سر چھپانے کے لیے مکان کی ضرورت تو ہے لیکن موت کو نہیں بھولنا چاہیے۔
جس طرح دنیا کی ضرورت کے لیے کوشش کرتے ہیں اس سے زیادہ آخرت کے گھر کی فکر ضروری ہے۔

(4)
بے جا تکلفات سے ہر ممکن حد تک بچنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4160]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2335
امت محمدیہ کا فتنہ مال ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہو چکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2335]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان کی لیپا پوتی اور اس کی اصلاح ومرمت نہ کی جائے بلکہ مراد اس سے موت کی یاد دہانی ہے،
تاکہ موت ہروقت انسان کے سامنے رہے اورکسی وقت بھی اس سے غفلت نہ برتے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2335]