🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : التوكل واليقين
باب: توکل اور یقین کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان (حسن ظن) رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4167]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کو اس حال میں موت آنی چاہیے کہ وہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمہا 19 (2877)، سنن ابی داود/الجنائز 17 (3113)، (تحفة الأشراف: 2295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 325، 330، 334، 390) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥طلحة بن نافع القرشي، أبو سفيان
Newطلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← طلحة بن نافع القرشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن طريف بن خليفة، أبو جعفر
Newمحمد بن طريف بن خليفة ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7231
لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله
صحيح مسلم
7231
لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن بالله الظن
سنن أبي داود
3113
لا يموت أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله
سنن ابن ماجه
4167
لا يموتن أحد منكم إلا وهو يحسن الظن بالله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4167 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4167
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کو اللہ کی رحمت کی امید اور اس کی ناراضی کا خوف، دونوں کی ضرورت ہے۔
امید اسے نیکیوں کی رغبت دلاتی ہے اور خوف اسے گناہ سے باز رکھتا ہے۔

(2)
زندگی میں امید پر خوف کا غلبہ رہنا چاہیے لیکن وفات کے وقت امید کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔

(3)
اللہ سے حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ امید رکھے کہ اس کی توفیق سےزندگی میں جو نیک کام ہوئے ہیں اللہ تعالی انھیں قبول فرمائے گا اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے گا۔

(4)
امید کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی میں اللہ تعالی کی نافرمانی کی عادت ہو اور نیکیوں کی طرف رغبت نہ ہو۔
جب نصیحت کی جائے تو کہہ دے:
اللہ بہت رحم کرنے والا ہے۔
یہ امید کا غلط تصور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4167]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3113
مستحب ہے کہ انسان موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ سے اچھی امید رکھتا ہو ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3113]
فوائد ومسائل:
عمدہ گمان ظاہر بات ہے وہی کر سکتا ہے۔
جس نے مومنانہ اور صالحانہ زندگی گزاری ہو ایک غیر مومنانہ اور غیر صالحانہ زندگی گزارنے والا کا حسن ظن ایسا ہی ہوگا۔
جیسے تخم حنظل بوکر شیریں اور خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھنا اس لئے مسئلہ تو یہی ہے انسان اپنے اللہ کے ساتھ ہمیشہ ہی عمدہ اور بہترین گمان رکھنا چاہیے۔
کہ وہ اس کے ساتھ ظاہری باطنی اوردنیاوآخرت کے تمام امور میں اچھا معاملہ فرمائے گا۔
مگرشرط یہ ہے کہ بتقاضائے شریعت اس کی واقعی بنیاد بھی ہو یعنی ایمان۔
تقویٰ اورعمل صالح سے مزین ہو۔
اس سے اعراض کرکے یا عناد کا رویہ رکھ کر اللہ تعالیٰ پر تمنایئں باندھنا سراسر دھوکا ہے۔
لیکن پھر بھی اللہ رب العالمین ہے۔
اس کے اپنے فیصلے ہیں۔
قرآن وسنت سے ہٹ کر کسی کے متعلق حتمی طور پرکچھ کہنا روا نہیں ہے بہرحال مومن کو امید اور خوف دونوں پہلووں کو پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔
صحت وعافیت کے دنوں میں خوف کا پہلو کسی قدرغالب رہے تو اچھا ہے لیکن بوقت رحلت امید کا پہلو غالب رکھنا چاہیے۔
کہ وہ الرحمٰن الرحیم اپنے خاص فضل سے عفووستر کا معاملہ فرمائے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3113]

Sunan Ibn Majah Hadith 4167 in Urdu