سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : الأمل والأجل
باب: انسان کی آرزو اور عمر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4236
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ , وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سال سے ستر کے درمیان ہو گی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزھد 23 (2331)، الدعوات 102 (3550)، (تحغة الأشراف: 15037) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3550
| أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين وأقلهم من يجوز ذلك |
جامع الترمذي |
2331
| عمر أمتي من ستين سنة إلى سبعين سنة |
سنن ابن ماجه |
4236
| أعمار أمتي ما بين الستين إلى السبعين وأقلهم من يجوز ذلك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4236 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4236
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گزشتہ امتوں میں لوگوں کی عمریں بہت لمبی ہوتے تھیں ان کے مقابلے میں اس امت کے افراد کی عمریں بہت مختصر ہیں اس لیے ہمیں اس مختصر مہلت میں نیکی کا کام کرنے کی کوشش زیادہ کرنی چاہیے۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
اللہ تعالی نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا جس کی موت کو اتنا مؤخر کردیا کہ وہ ساٹھ سال پہنچ گیا۔ (صحيح البخاري، الرقاق، باب:
من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله في العمر۔
۔
۔
۔
۔
۔
، حديث: 6419)
(3)
جب انسان ساٹھ سال کے قریب پہنچ جائے تو اسے آخرت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے شاید ساٹھ سال سے آگے نہ بڑھ سکے۔
اور ساٹھ سال کے بعد تو یوں سمجھے کہ مجھے رعایتی مدت مل رہی ہے۔
اس کے بعد غفلت اور فسق وفجور نہایت خطرناک ہے۔
ستر سال کے بعد تو ہر دن کو ایک نئی رعایت تصور کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
گزشتہ امتوں میں لوگوں کی عمریں بہت لمبی ہوتے تھیں ان کے مقابلے میں اس امت کے افراد کی عمریں بہت مختصر ہیں اس لیے ہمیں اس مختصر مہلت میں نیکی کا کام کرنے کی کوشش زیادہ کرنی چاہیے۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
اللہ تعالی نے اس آدمی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا جس کی موت کو اتنا مؤخر کردیا کہ وہ ساٹھ سال پہنچ گیا۔ (صحيح البخاري، الرقاق، باب:
من بلغ ستين سنة فقد أعذر الله في العمر۔
۔
۔
۔
۔
۔
، حديث: 6419)
(3)
جب انسان ساٹھ سال کے قریب پہنچ جائے تو اسے آخرت کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے شاید ساٹھ سال سے آگے نہ بڑھ سکے۔
اور ساٹھ سال کے بعد تو یوں سمجھے کہ مجھے رعایتی مدت مل رہی ہے۔
اس کے بعد غفلت اور فسق وفجور نہایت خطرناک ہے۔
ستر سال کے بعد تو ہر دن کو ایک نئی رعایت تصور کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4236]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2331
امت محمدیہ کی اوسط عمر ساٹھ سے ستر برس کے درمیان ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سے ستر سال تک کے درمیان ہو گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2331]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سے ستر سال تک کے درمیان ہو گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2331]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(یہ حدیث (أعمار أمتي مابین ...) کے لفظ سے صحیح ہے)
نوٹ:
(یہ حدیث (أعمار أمتي مابین ...) کے لفظ سے صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2331]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3550
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر (سال) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3550]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر (سال) کے درمیان ہیں اور تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو اس حد کو پار کریں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3550]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دیکھئے: کتاب الزهد،
باب ما جاء في فناء أعماء هذه الأمة (رقم: 2331) وہاں یہ حدیث بطریق: أبی صالح،
عن أبی ہریرۃ آئی ہے۔
وضاحت:
1؎:
دیکھئے: کتاب الزهد،
باب ما جاء في فناء أعماء هذه الأمة (رقم: 2331) وہاں یہ حدیث بطریق: أبی صالح،
عن أبی ہریرۃ آئی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3550]
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي