علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب : ذكر القبر والبلى
باب: قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4271
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ , حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ يُبْعَثُ".
کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل الجہاد 13 (1641)، سنن النسائی/الجنائز 117 (2075)، (تحفة الأشراف: 1148)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (49)، مسند احمد (3/455، 456، 460) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥كعب بن مالك الأنصاري، أبو بشير، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن كعب الأنصاري، أبو فضالة، أبو عبد الرحمن عبد الله بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الله بن كعب الأنصاري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← محمد بن شهاب الزهري | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد سويد بن سعيد الهروي ← مالك بن أنس الأصبحي | صدوق يخطئ كثيرا |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2075
| نسمة المؤمن طائر في شجر الجنة حتى يبعثه الله إلى جسده يوم القيامة |
جامع الترمذي |
1641
| أرواح الشهداء في طير خضر تعلق من ثمر الجنة أو شجر |
سنن ابن ماجه |
4271
| نسمة المؤمن طائر يعلق في شجر الجنة حتى يرجع إلى جسده يوم يبعث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4271 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4271
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
محققین نے اس حدیث پر طویل بحث کی ہے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ تصیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابن ماجہ کی ایک روایت جو کہ اس مفہوم کی ہے۔
اس کی تحقیق میں لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت (4271)
اس سے کفایت کرتی ہے جبکہ مذکورہ روایت کو وہ خود ضعیف قراردے چکے ہیں۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شیخ سے تسامح ہوا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25/ 55، 59 والصحیحة للألبانی رقم: 995 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 4271)
(2)
پچھلی حدیث میں مذکور تھا کہ میت کوقبر ہی میں جنت کی یا جہنم کی ہوا پہنچتی ہے۔
جبکہ اس حدیث میں ہے کہ وہ پرندے کی صورت میں جنت کے پھل کھاتا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ انسان کے درجات کے لحاظ سے ہو کہ بعض مومنوں کو قبر میں جنت کی نعمتیں ملتی ہوں اور بعض کو جنت میں پہنچا دیا جاتا ہو جیسے شہداء کے بارے میں یہی الفاظ وارد ہیں۔
واللہ اعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
محققین نے اس حدیث پر طویل بحث کی ہے۔
جس سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ تصیح والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے سنن ابن ماجہ کی ایک روایت جو کہ اس مفہوم کی ہے۔
اس کی تحقیق میں لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی روایت (4271)
اس سے کفایت کرتی ہے جبکہ مذکورہ روایت کو وہ خود ضعیف قراردے چکے ہیں۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شیخ سے تسامح ہوا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25/ 55، 59 والصحیحة للألبانی رقم: 995 وسنن ابن ماجة بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم: 4271)
(2)
پچھلی حدیث میں مذکور تھا کہ میت کوقبر ہی میں جنت کی یا جہنم کی ہوا پہنچتی ہے۔
جبکہ اس حدیث میں ہے کہ وہ پرندے کی صورت میں جنت کے پھل کھاتا ہے۔
ممکن ہے کہ یہ انسان کے درجات کے لحاظ سے ہو کہ بعض مومنوں کو قبر میں جنت کی نعمتیں ملتی ہوں اور بعض کو جنت میں پہنچا دیا جاتا ہو جیسے شہداء کے بارے میں یہی الفاظ وارد ہیں۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4271]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2075
مومنوں کی روحوں کا بیان۔
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2075]
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2075]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں بعینہٖ اسی روایت پر سنداً ضعف کا حکم لگانے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابن ماجہ ہی کی روایت نمبر: 4271، کفایت کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت محقق کتاب کے نزدیک بھی قابل حجت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 59-55/25، والصحیحة للألباني، رقم: 995، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 143-123/20) ”جسم“ سے مراد برزخی جسم ہے جس پر برزخی زندگی کی کیفیات گزریں گی جس کی اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے، تاہم وہاں اسے جنت اور جہنم کی نعمتوں اور تکلیفوں کا احساس ہوگا۔
مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ کی تحقیق میں بعینہٖ اسی روایت پر سنداً ضعف کا حکم لگانے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابن ماجہ ہی کی روایت نمبر: 4271، کفایت کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت محقق کتاب کے نزدیک بھی قابل حجت ہے۔ علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 59-55/25، والصحیحة للألباني، رقم: 995، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 143-123/20) ”جسم“ سے مراد برزخی جسم ہے جس پر برزخی زندگی کی کیفیات گزریں گی جس کی اصل حقیقت اللہ ہی جانتا ہے، تاہم وہاں اسے جنت اور جہنم کی نعمتوں اور تکلیفوں کا احساس ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2075]
Sunan Ibn Majah Hadith 4271 in Urdu
عبد الله بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري