الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : ما جاء في تخليل اللحية
باب: داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 23 (29)، (تحفة الأشراف: 10346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: داڑھی کے بالوں کا خلال مستحبات وضو میں سے ہے، جن کی داڑھی گھنی ہو انہیں اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے، اسی طرح انگلیوں کے خلال کا بھی خیال رکھنا چاہئے، اگر یہ احساس ہو کہ پانی نہیں پہنچا ہو گا تو ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
429
| رأيت رسول الله يخلل لحيته |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 429 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث429
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہےاور مزید لکھا ہے کہ اگلی روایت اس سے کفایت کرتی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے۔ دیکھیے: (الروض النضير في الترتيب وتخريج معجم الطبراني الصغير رقم: 475)
بہرحال یہ روایت قابل حجت ہے۔
(2)
امام ابن اثیر نے اپنی کتاب النهايه میں خلال كی وضاحت یوں فرمائی ہے:
(اَلتَّخْلِيْلُ تَفْرِيْقُ شَعْرِ اللِّحْيَةِ وَاَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ) (النهاية في غريب الحديث والأثر: 73/2، مادة ”خلل“)
خلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وضو میں ڈاڑھی کے بالوں اور ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں ہاتھ کی انگلیاں پھیرنا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ پانی اعضائےوضو کے زیادہ سے زیادہ حصوں تک پہنچ جائے۔
(3)
امام ابن قیم ؒ نے فرمایا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی ڈاڑھی کا خلال کرتے اور اس پر پابندی نہیں فرماتے تھے۔
۔
۔
اسی طرح انگلیوں کے خلال میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوام نہیں فرماتے تھے۔ (زادالمعاد: 1؍68، طبع مصر، فصل في هدية في الوضوء)
لیکن انھوں نے کبھی کبھی کرنے کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی بلکہ بعض روایات میں حکم بھی ملتا ہے جس سے دوام کا پہلو راجح معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا ہےاور مزید لکھا ہے کہ اگلی روایت اس سے کفایت کرتی ہے علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے اس روایت کو صحیح قراردیا ہے۔ دیکھیے: (الروض النضير في الترتيب وتخريج معجم الطبراني الصغير رقم: 475)
بہرحال یہ روایت قابل حجت ہے۔
(2)
امام ابن اثیر نے اپنی کتاب النهايه میں خلال كی وضاحت یوں فرمائی ہے:
(اَلتَّخْلِيْلُ تَفْرِيْقُ شَعْرِ اللِّحْيَةِ وَاَصَابِعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ) (النهاية في غريب الحديث والأثر: 73/2، مادة ”خلل“)
خلال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وضو میں ڈاڑھی کے بالوں اور ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں ہاتھ کی انگلیاں پھیرنا۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ پانی اعضائےوضو کے زیادہ سے زیادہ حصوں تک پہنچ جائے۔
(3)
امام ابن قیم ؒ نے فرمایا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی ڈاڑھی کا خلال کرتے اور اس پر پابندی نہیں فرماتے تھے۔
۔
۔
اسی طرح انگلیوں کے خلال میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوام نہیں فرماتے تھے۔ (زادالمعاد: 1؍68، طبع مصر، فصل في هدية في الوضوء)
لیکن انھوں نے کبھی کبھی کرنے کی کوئی دلیل ذکر نہیں کی بلکہ بعض روایات میں حکم بھی ملتا ہے جس سے دوام کا پہلو راجح معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 429]
حسان بن بلال المزني ← عمار بن ياسر العنسي