🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب : ما يرجى من رحمة الله يوم القيامة
باب: روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ , هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4296]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک گدھے پر سوار تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: معاذ! کیا تجھے معلوم ہے کہ بندوں کے ذمے اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ کے ذمے بندوں کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو (عبادت میں) شریک نہ کریں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جب وہ یہ کام کریں تو انہیں عذاب نہ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11346)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 46 (2856)، صحیح مسلم/الإیمان 10 (30)، سنن ابی داود/الجہاد 53 (2559)، سنن الترمذی/الإیمان 18 (2643)، مسند احمد (5/228، 230، 234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن جبل الأنصاري، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← معاذ بن جبل الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الملك بن عمير اللخمي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الملك بن عمير اللخمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الملك البصري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الملك البصري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2856
حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا حق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئا أفلا أبشر به الناس قال لا تبشرهم فيتكلوا
صحيح البخاري
7373
أتدري ما حق الله على العباد قال الله ورسوله أعلم قال أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا أتدري ما حقهم عليه قال الله ورسوله أعلم قال أن لا يعذبهم
صحيح مسلم
145
ما حق الله على العباد قلت الله ورسوله أعلم قال أن يعبد الله ولا يشرك به شيء أتدري ما حقهم عليه إذا فعلوا ذلك فقال الله ورسوله أعلم قال أن لا يعذبهم
صحيح مسلم
144
حق الله على العباد أن يعبدوا الله ولا يشركوا به شيئا حق العباد على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئا أفلا أبشر الناس قال لا تبشرهم فيتكلوا
جامع الترمذي
2643
أتدري ما حق الله على العباد قلت الله ورسوله أعلم قال فإن حقه عليهم أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا حقهم عليه إذا فعلوا ذلك قلت الله ورسوله أعلم قال أن لا يعذبهم
سنن ابن ماجه
4296
حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا حق العباد على الله إذا فعلوا ذلك أن لا يعذبهم
مشكوة المصابيح
24
قال فإن حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحق العباد على الله ان لا يعذب من لا يشرك به شيئا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4296 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4296
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے۔
کہ اس موقع پر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی آپ کے گدھے پر سوار تھے۔ (صحیح البخاري، الجھاد والسیر، باب اسم الفرس والحمار، حدیث 2856)

(2)
اللہ تعالیٰ بندوں کا خالق اور منعم ہے۔
اس لئے بندوں کالازمی فرض ہے۔
کہ صرف اسی کی عبادت کریں۔

(3)
اللہ کے ذمے قطعاً کسی کا کوئی حق نہیں۔
اللہ نے بندوں کا جو حق اپنے ذمے لیا ہے تو اس کے ذمے اس کے بندوں کا یہ حق محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے یہ حق اللہ نے خود اپنی رحمت سے اپنے ذمے لے لیا ہے۔

(4)
شرک نہ کرنے والے کو عذاب نہ دینے سے مراد دائمی عذاب نہ دینا ہے ورنہ دوسرے گناہوں کی سزا قبر میں قیامت کے دن اور جہنم میں ملےگی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4296]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 24
اللہ تعالیٰ اور بندوں کا ایک دوسرے پر حق
«. . . ‏‏‏‏وَعَن معَاذ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم على حمَار يُقَال لَهُ عفير فَقَالَ يَا معَاذ هَل تَدْرِي حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرُهُمْ فَيَتَّكِلُوا . . .»
. . . سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے میں بھی آپ کے پیچھے اسی گدھے پر بیٹھا تھا، میرے اور آپ کے درمیان صرف کجاوہ کے پچھلی لکڑی کے سوا اور کسی چیز کا فاصلہ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق اس کے بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اس کو ایک جانیں اس کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ سمجھیں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو یہ خوشخبری لوگوں کو سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خوشخبری نہ سناؤ لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 24]
تخریج الحدیث:
[صحیح بخاری 2856] ،
[صحیح مسلم 144،145]

فقہ الحدیث
➊ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور ہر قسم کے شرک سے مکمل اجتناب انتہائی اہم مسئلہ اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عظیم الشان عقیدے پر اہل توحید ساری زندگی ثابت قدم رہتے ہیں اور ہر وقت کٹ مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ کا اہل توحید سے یہ وعدہ ہے وہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔ اگر بعض موحدین کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیا گیا تو بعد میں ایک دن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں جہنم سے نکال کر ابدی جنت میں داخل فرمائے گا۔
➌ ہر انسان کو چاہئے کہ اپنے سے افضل انسان کا کماحقہ احترام کرے۔ تمام معاملات میں اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرنے کے بجائے، اسے اپنے آپ پر ترجیح دے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس سے یہ بھی واضع ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر، چاہے وہ عوام میں سے ہو یا طلباء میں سے، یہ لازم ہے کہ علمائے حق کا احترام و ادب کرے۔
➍ اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ لوگ نیک اعمال کرنا چھوڑ دیں۔ اسی وجہ سے اسے عوام الناس کے سامنے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ لوگوں کی غلط فہمی، فتنے اور دیگر مضر اثرات کے خوف کی وجہ سے بعض نصوص صحیحہ کا عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور اگر بیان کیا جائے تو ان کی صحیح تشریح اور مفہوم بھی سمجھا دینا چاہئے۔
➎ اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تمام احکامات پر عمل کیا جائے۔ اگر اعمال صالحہ کو ترک کر کے اور کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی عبادت کی جائے تو اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
➏ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے باوجود یہ حدیث کیوں بیان کی تھی؟
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت گناہ کے خوف سے یہ حدیث بیان فرما دی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من كتم علماً تلجم بلجام من نار يوم القيامة»
جو شخص علم چھپائے گا اسے قیامت کے دن آگ کی لگام دی جائے گی۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان: 95، الموارد: 95]
علماء کرام نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث چند خاص لوگوں کے سامنے بیان کی تھی، اور حدیث میں ممانعت عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی ہے، یا یہ کہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔ «والله اعلم»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 24]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 24
اللہ تعالیٰ اور بندوں کا ایک دوسرے پر حق
«. . . ‏‏‏‏وَعَن معَاذ رَضِي الله عَنهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم على حمَار يُقَال لَهُ عفير فَقَالَ يَا معَاذ هَل تَدْرِي حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرُهُمْ فَيَتَّكِلُوا . . .»
. . . سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے میں بھی آپ کے پیچھے اسی گدھے پر بیٹھا تھا، میرے اور آپ کے درمیان صرف کجاوہ کے پچھلی لکڑی کے سوا اور کسی چیز کا فاصلہ نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی کہ اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق اس کے بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اس کو ایک جانیں اس کے ساتھ کسی کو اس کا شریک نہ سمجھیں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو یہ خوشخبری لوگوں کو سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خوشخبری نہ سناؤ لوگ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 24]

تخریج الحدیث:
[صحیح بخاری 2856] ،
[صحیح مسلم 144،145]

فقہ الحدیث
➊ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور ہر قسم کے شرک سے مکمل اجتناب انتہائی اہم مسئلہ اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عظیم الشان عقیدے پر اہل توحید ساری زندگی ثابت قدم رہتے ہیں اور ہر وقت کٹ مرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ کا اہل توحید سے یہ وعدہ ہے وہ انہیں عذاب نہیں دے گا۔ اگر بعض موحدین کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کیا گیا تو بعد میں ایک دن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں جہنم سے نکال کر ابدی جنت میں داخل فرمائے گا۔
➌ ہر انسان کو چاہئے کہ اپنے سے افضل انسان کا کماحقہ احترام کرے۔ تمام معاملات میں اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرنے کے بجائے، اسے اپنے آپ پر ترجیح دے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس سے یہ بھی واضع ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر، چاہے وہ عوام میں سے ہو یا طلباء میں سے، یہ لازم ہے کہ علمائے حق کا احترام و ادب کرے۔
➍ اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ لوگ نیک اعمال کرنا چھوڑ دیں۔ اسی وجہ سے اسے عوام الناس کے سامنے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ لوگوں کی غلط فہمی، فتنے اور دیگر مضر اثرات کے خوف کی وجہ سے بعض نصوص صحیحہ کا عام لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور اگر بیان کیا جائے تو ان کی صحیح تشریح اور مفہوم بھی سمجھا دینا چاہئے۔
➎ اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تمام احکامات پر عمل کیا جائے۔ اگر اعمال صالحہ کو ترک کر کے اور کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی عبادت کی جائے تو اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔
➏ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے باوجود یہ حدیث کیوں بیان کی تھی؟
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت گناہ کے خوف سے یہ حدیث بیان فرما دی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«من كتم علماً تلجم بلجام من نار يوم القيامة»
جو شخص علم چھپائے گا اسے قیامت کے دن آگ کی لگام دی جائے گی۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان: 95، الموارد: 95]
علماء کرام نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث چند خاص لوگوں کے سامنے بیان کی تھی، اور حدیث میں ممانعت عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی ہے، یا یہ کہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔ «والله اعلم»
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 24]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 144
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں عفیر نامی گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے پیچھے سوار تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اے معاذ! جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے، جو اس کے ساتھ شریک نہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:144]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اَلْحَق:
حق موجود چیز کو کہتے ہیں،
اس لیے سچ،
صدق کو بھی حق کہہ دیتے ہیں،
کیونکہ وہ موجود ہے اور حق ہر اس چیز کو کہہ دیتے ہیں جس کا کرنا لازم اور ضروری ہے،
اس لیے فرائض جن کی ادائیگی ضروری ہے یا قرض جس کا ادا کرنا لازم ہے اس کو بھی حق کہہ دیتے ہیں۔
اللہ کا بندوں پر حق ہے،
کا معنی یہ ہے:
کہ بندہ پر اس کام کا کرنا لازم اور واجب ہے۔
اور بندوں کا اللہ پر حق ہے کا معنی یہ ہے کہ اس چیز کا پایا جانا قطعی اور یقینی ہے،
یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا کرنا لازم واجب ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 144]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2856
2856. حضرت معاذ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اور اس گدھے کا نام عفیرتھا۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! اور کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟ اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کوئی اس کا شریک نہ ٹھہرائے اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ (خالی) تو کل کرکے بیٹھ رہیں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2856]
حدیث حاشیہ:
یہاں گدھے کا نام عفیر مذکور ہے‘ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
حدیث ہذا سے شرک کی انتہائی مذمت اور توحید کی انتہائی خوبی بھی ثابت ہوئی۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات میں مذکور ہے کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے جو شخص بحالت شرک دنیا سے چلا گیا‘ اس کے لئے جنت قطعاً حرام ہے۔
وہ ہمیشہ کے لئے نار دوزخ میں جلتا رہے گا۔
صد افسوس کہ کتنے نام نہاد مسلمان ہیں جو قرآن مجید پڑھنے کے باوجود اندھے ہو کر شرکیہ کاموں میں گرفتار ہیں بلکہ بت پرستوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔
جو قبروں میں دفن شدہ بزرگوں سے حاجات طلب کرتے‘ دور دراز سے ان کی دہائی دیتے اور ان کے ناموں کی نذر نیاز کرتے ہیں اور ایسے ایسے غلط اعتقادات بزرگوں کے بارے میں رکھتے ہیں جو اعتقاد کھلے ہوئے شرکیہ اعتقادہیں اور جو بت پرستوں کو ہی زیب دیتے ہیں مگر نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کو برباد کردیا ہے ھداھم اللہ إلی صراط مستقیم توحید و شرک کی تفصیلات کے لئے تقویۃ الایمان کا مطالعہ نہایت اہم اور ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2856]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7373
7373. سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نےفرمایا: (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) وہ اللہ کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں۔ تو جانتا ہے کہ ان بندوں کے حق اللہ کے ذمے کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نےفرمایا: یہ کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7373]
حدیث حاشیہ:
عبادت وبندگی کے کاموں میں اللہ پاک کو وحدہ لا شریک له مانے۔
یہی وہ حق ہے جو اللہ نے اپنے ہر بندے بندی کے ذمہ واجب قرار دیا ہے۔
بندے ایسا کریں تو ان کا حق بذمہ اللہ پاک یہ ہے کہ وہ ان کو بخش دے اور جنت میں داخل کرے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7373]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7373
7373. سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نےفرمایا: (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) وہ اللہ کی عبادت کریں اوراس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں۔ تو جانتا ہے کہ ان بندوں کے حق اللہ کے ذمے کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نےفرمایا: یہ کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7373]
حدیث حاشیہ:

اس مقام پر یہ حدیث اختصار کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے غفیر نامی گدھے پر سوارتھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تین دفعہ آواز دے کر اپنی طرف متوجہ کیا، پھر فرمایا:
تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے؟ انھوں نے عرض کی:
اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ کا اپنے بندوں پر حق ہے کہ وہ خالص اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
آگے چل کر پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آواز دے کرمتوجہ کیا اور فرمایا:
کیا تمھیں علم ہے کہ جب اس کے بندے اللہ کا حق ادا کریں تو بندوں کا اللہ کے ذمے کیا حق ہے؟ عرض کی:
اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )
ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں تو وہ انھیں عذاب نہ دے۔
(صحیح البخاري، الجھاد والسیر، حدیث: 2856)

اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے اس حق کی وضاحت مقصود ہے جو اس کے بندوں پر عائد ہوتا ہے اور وہ ہے شرک سے دور رہتے ہوئے اس کی عبادت کرنا۔
اس عبادت سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو۔
دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچنا اس کی عبادت ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ کسی ذاتی غرض اور دنیوی فائدے کے پیش نظر اپنے خالق حقیقی کی مخالفت نہ کرے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کی وضاحت کر دی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ ان سے مال برابر بھی انحراف نہ کرے۔

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے بندوں کے حقوق بندوں کی بجاآوری کا عوض نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے انھیں اپنے ذمے لیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
تمہارے رب نے اپنے آپ پر رحمت کرنا لازم کرلیاہے۔
(الأنعام: 54)
نیز فرمایا:
اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارے ذمے ہے۔
(الروم: 47)
حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
میرے بندو! میں نےخود پر ظلم حرام قرار دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام کرتا ہوں، لہذا تم کسی پر ظلم نہ کیا کرو۔
(صحیح مسلم، البر والصلة، حدیث: 6572 (2577)
عبادت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کےساتھ شرک نہ کرنا توحید الوہیت ہے۔
مشرکین اس سے انکار کرتے تھے۔
افسوس کہ دور حاضر میں مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی بندگی بھی کرتے ہیں۔
ان کے نام کی نذرونیازدیتے ہیں بلکہ بعض نام نہاد مسلمان تو قبروں کوسجدہ بھی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید الوہیت کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر گامزن رکھے۔
یہی وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔
جب بندے اس کی بجاآوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں جہنم سے بری کرکے جنت میں داخل فرمائے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7373]

Sunan Ibn Majah Hadith 4296 in Urdu