سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : ما يرجى من رحمة الله يوم القيامة
باب: روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید۔
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ , فَمَرَّ بِقَوْمٍ , فَقَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ" , فَقَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ , وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا , وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا , فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ , تَنَحَّتْ بِهِ , فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُمِّ بِوَلَدِهَا؟ قَالَ:" بَلَى" , قَالَتْ: فَإِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ , فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ , الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ , وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: ”تم کون لوگ ہو“؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“ وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں“؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4297]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم کسی غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون لوگ ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم مسلمان ہیں۔“ ایک عورت تنور میں ایندھن ڈال (کر اسے دہکا) رہی تھی اور اس کے پاس اس کا بیٹا تھا، جب تنور کی (آگ کی) لپٹ اوپر آتی وہ بچے کو پیچھے کر لیتی، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! کیا اللہ تعالیٰ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں جس قدر ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں پھینکتی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا لیا اور رونے لگے، پھر سرِ مبارک اٹھا کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو عذاب نہیں دیتا، سوائے اس سرکش اور اڑیل کے جو اللہ سے سرکشی کرتا ہے اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہنے سے انکار کر دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7739، ومصباح الزجاجة: 1539) (موضوع)» (سند میں اسماعیل بن یحییٰ متہم بالکذب ہے، اور عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع
قال الإمام يزيد بن هارون : ” كان إسماعيل الشعري كذابًا “ (الضعفاء للعقيلي 96/1 وسنده صحيح )
قال الإمام يزيد بن هارون : ” كان إسماعيل الشعري كذابًا “ (الضعفاء للعقيلي 96/1 وسنده صحيح )
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن، أبو القاسم عبد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ضعيف الحديث | |
👤←👥إسماعيل بن يحيى الشيباني إسماعيل بن يحيى الشيباني ← عبد الله بن عمر العدوي | متهم بالكذب | |
👤←👥إبراهيم بن أعين الشيباني إبراهيم بن أعين الشيباني ← إسماعيل بن يحيى الشيباني | ضعيف الحديث | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← إبراهيم بن أعين الشيباني | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4297
| الله لا يعذب من عباده إلا المارد المتمرد الذي يتمرد على الله وأبى أن يقول لا إله إلا الله |
Sunan Ibn Majah Hadith 4297 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي