🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب : ما يقال بعد الوضوء
باب: وضو کے بعد کی دعاؤں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اچھی طرح سے وضو کرے پھر «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے وہ داخل ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطہارة 6 (234)، سنن ابی داود/الطہارة 65 (169)، سنن الترمذی/الطہارة 41 (55)، سنن النسائی/الطہارة 108 (148)، (تحفة الأشراف: 10609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/146، 151، 153)، سنن الدارمی/الطہارة 43 (743) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمرو
Newعقبة بن عامر الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عبد الله بن عطاء الطائفي، أبو عطاء
Newعبد الله بن عطاء الطائفي ← عقبة بن عامر الجهني
مقبول
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن عطاء الطائفي
ثقة مكثر
👤←👥أبو بكر بن عياش الأسدي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عياش الأسدي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علقمة بن عمرو التميمي، أبو الفضل
Newعلقمة بن عمرو التميمي ← أبو بكر بن عياش الأسدي
صدوق له غرائب
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
148
من توضأ فأحسن الوضوء ثم قال أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فتحت له ثمانية أبواب الجنة يدخل من أيها شاء
سنن ابن ماجه
470
ما من مسلم يتوضأ فيحسن الوضوء ثم يقول أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله إلا فتحت له ثمانية أبواب الجنة يدخل من أيها شاء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 470 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث470
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ دعا ان الفاظ میں بھی مروی ہے (أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)
  (صحيح مسلم، الطهارة، باب الذكر المستحب عقب الوضوء، حديث: 234)

(2)
جنت کے دروازے کھول دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے نیکی کے دروازے کھل گئےہیں۔
جو نیکیاں وہ شخص وضو کے بغیر ادا نہیں کرسکتا تھا اب کرسکتا ہے، لہٰذا اب جو نیکی چاہے انجام دے لے۔
اور یہ مطلب بھی ہے کہ وفات کے بعد اس کے لیے جنت کے سب دروازے کھل جائیں گے۔
اسے جنت میں داخل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

(3)
داخل ہونے کے لیے تو ایک دروازہ بھی کافی ہوتا ہے لیکن زیادہ دروازوں کو کھولنا اس کی عزت افزائی کے لیے ہے تاکہ اس کا مقام ومرتبہ واضح ہو اور اسے بہت زیادہ خوشی حاصل ہو۔
 واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 470]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 148
وضو سے فراغت کے بعد کی دعا کا بیان۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 148]
148۔ اردو حاشیہ:
➊ بعض احادیث میں کلمۂ شہادت کے بعد یہ کلمات پڑھنے کا ذکر بھی ملتا ہے: «اللھم اجعلني من التوابین واجعلني من المتطھرین» [جامع الترمذي، الطھارۃ، حدیث: 55]
یا اللہ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے۔ لہٰذا کلمۂ شہادت کے ساتھ ان الفاظ کو بھی پڑھنا جائز ہے، لیکن وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف منہ کرنا اور انگلی سے اشارہ کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، لہٰذا اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔
جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے وعدے مشروط ہیں، یعنی بشرطیکہ اس سے کوئی ایسا کام صادر نہ ہوا ہو تو عدم مغفرت یا دخول جہنم کا لازمی سبب ہو۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 148]